گومل زام ڈیم کے آٹھویں مغوی

Image caption گومل زام ڈیم کے اغوا ہونے والے اہلکار رہا ہو کر واپس آ رہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گومل زام ڈیم کے اغوا شدہ اہلکاروں کی رہائی کی خبر سے ان کے اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن ایک خاندان آج بھی کرب سے گزر رہا ہے۔

سرکاری بیانات اور میڈیا کی خبروں کے مطابق تمام یعنی آٹھ کے آٹھ اہلکار کو طالبان نے تیرہ ماہ بعد رہا کر دیا ہے لیکن ان میں سے ایک سکیورٹی اہلکار آج بھی اپنے گھر نہیں پہنچ سکا ہے۔

پاکستان فوج کے انجینرنگ کور سے تعلق رکھنے والے سپاہی مشتاق احمد خان بھی ان آٹھ افراد میں شامل تھے جنہیں طالبان نے اگست 2012 میں جنوبی وزیرستان میں ڈیم سے واپس ٹانک شہر آتے ہوئے راستے میں اغوا کر لیا تھا۔ اس قافلے میں ڈیم افسران، دیگر عملہ اور سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔

میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میں گورنر ہاؤس پشاور کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ قبائلی جرگے کی مدد سے تمام آٹھ اہلکار بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے ہیں۔

مشتاق احمد کے بھائی وحید اللہ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام ٹی وی چینلوں اور اخبارات میں خبروں کے علاوہ جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ کی جانب سے جو بیان جاری ہوا اس میں بھی رہائی پانے والوں میں میرے بھائی کام نام بھی شامل تھا۔ ’ابھی تک ہمیں نہیں معلوم کہ وہ رہائی کے بعد کہاں ہے۔ جو ہماری تحقیق ہے، اندازہ ہے یا گمان ہے تو ہمارے خیال میں وہ فوج کے پاس ہوسکتا ہے۔‘

مشتاق وہ واحد بدقسمت مغوی تھا جس کی ویڈیو طالبان نے نو سمتبر یعنی تقریبا ایک ماہ بعد جاری کی جس میں اسے گولی مار کر ہلاک کرتے دکھایا گیا تھا۔ کسی پہاڑی علاقے میں ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں مغوی کا ہلاکت سے قبل مختصر بیان بھی تھا جس میں اس کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کو شک ہے کہ وہ حکومت کے کارندے ہیں۔ لیکن مشتاق کے اہل خانہ اسے ماننے کو تیار نہیں۔

وحید کا کہنا تھا کہ انھیں بعد میں خفیہ اداروں اور ڈیم کے سکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ ویڈیو جعلی تھی اور ان کے بھائی زندہ ہیں۔ ’ایک فوجی اہلکار اور پشاور میں ایک صحافی نے بھی ہمیں بتایا کہ وہ زندہ ہیں۔ اس کے چار پانچ ماہ بعد معلوم ہوا کہ انہیں دیگر مغویوں سے دور رکھا جا رہا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ جو مغوی رہا ہوئے ہیں انہوں نے مشاق کا کچھ اتا پتا دیا، تو وحید کا کہنا تھا کہ ایک دو سے ملاقات ہوئی تھی وہ محض یہ بتا رہے ہیں کہ اسے ان سے اغوا کے ابتدائی دو ہفتوں کے بعد ہی الگ کر دیا تھا۔ ’درست بات نہیں بتا رہے ہیں۔ ہاں خفیہ اداروں کے لوگ ہمیں بتا رہے ہیں کہ وہ ان کے پاس ہیں اور پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیے جائیں گے۔‘

اس تذبذب سے مشتاق کا تمام خاندان گزر رہا ہے۔ وہ ان آٹھ مغویوں میں سے واحد ہیں جس کے بارے میں بار بار بری ہی خبریں ان کا کرب بڑھا ہی ہے۔ مشتاق شادی شدہ ہے اور اس کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا بھی ہے۔ وحید کا کہنا ہے کہ ’ان کی والدہ، بیوی اور بچے سب شدید کرب سے گزر رہے ہیں۔ پہلے خاندان کو اطلاع دیتے پھر تفتیش کر لیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔‘

ان مغویوں کے اہل خانہ نے اسیری کے دوران پشاور ہائی کورٹ کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ 18 ستمبر، بروز بدھ اس مقدمے کی سماعت ہے۔ وحید اللہ کو امید ہے کہ اس میں انہیں کوئی ٹھوس اطلاع مل پائے گی۔ ’ہم عدالت کو بتائیں گے کہ یہ آٹھواں اہل کار کدھر گیا۔‘

بی بی سی کی جانب سے فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے سے رابطے پر ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ وہ اس بابت معلوم کر کےجلد مطلع کریں گے۔

معلوم نہیں مشتاق کے خاندان کی اذیت کی وجہ غلط خبریں اور بیانات تھے یا وہ واقعی فوج کے پاس ہیں۔ صرف فوجی حکام ہی ان کا کرب کم کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں