کنواری کالونی میں رینجرز کا چھاپہ، ’طالبان‘ گرفتار

Image caption رینجرز نے کراچی کے مختلف علاقوں سے انتیس افراد کو گرفتار کیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رینجرز نے مختلف مقامات پر چھاپے مارکر 29 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

رینجرز اور پولیس کی ایک مشترکہ کارروائی میں کالعدم تحریک طالبان کا ایک کارکن ہلاک ہوگیا۔

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آگرہ تاج کالونی، گلشن اقبال، مہران ٹاؤن، مچھر کالونی، قائد آباد، نور محمد گوٹھ، سرجانی ٹاؤن، بھینس کالونی، شاہ فیصل کالونی اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کی گئی ہیں۔

رینجرز کے مطابق کنواری کالونی میں پولیس کےساتھ کالعدم تنظیم کی کمین گاہوں پر چھاپے مارے گئے، جہاں فائرنگ کے تبادلے کے بعد کالعدم تنظیم کے ایک رکن کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

سی آئی ڈی پولیس کے ڈی ایس پی چوہدری اسلم کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کا رکن حضرت علی کلاشنکوف اور دستی بم سمیت گرفتار کیا تھا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگیا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ملزم کا تعلق کالعدم تحریک طالبان حکیم اللہ محسود گروپ سے تھا۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن اسمبلی ندیم ہاشمی کو گذشتہ شب رہا کردیا گیا، انھیں حیدری میں دو سپاہیوں کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

کراچی پولیس کے سربراہ چیف شاہد حیات کا کہنا ہے کہ پولیس نے تمام قانونی تقاضا پورے کیے لیکن انہیں کوئی ثبوت نہیں مل سکا اس وجہ سے ندیم ہاشمی کو رہا کیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم نے ندیم ہاشمی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا تھا اور اس حوالے سے سندھ اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کروائی تھی تاہم اسمبلی کے اجلاس سے چند گھنٹے قبل ہی ندیم ہاشمی کو رہا کردیا گیا۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نے اورنگی میں کارکنوں اور ہمدردوں کے قتل پر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کو معلوم ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے لیکن کیا مجرموں نے سلیمانی ٹوپی پہنی ہوئی ہے جو قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس انھیں گرفتار نہیں کرسکتی۔

خیال رہے کہ منگل کی دوپہر کو اورنگی ٹاؤن کے علاقے غازی نگر مہاجر چوک میں پنکچر کی دکان پر چار موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پرویز عالم، ندیم، جبار اور ریاض احمد ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ مقتول پرویز عالم ایک سپاہی کے قتل کے مقدمے میں ملوث تھے۔

دوسری جانب ایم کی ایم کی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں پرویز شفیع اور محمد ریاض جماعت کے کارکن جب کہ عبدالجبار اور ندیم ہمدرد تھے۔

دریں اثنا اورنگی ٹاؤن میں بدھ کی صبح فائرنگ میں ایک نوجوان اعجاز احمد کیانی ہلاک ہوگیا۔ جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ مقتول کا تعلق احمدی جماعت سے تھا اور وہ اٹامک انرجی ڈیپارٹمنٹ میں بطور ڈرائیور کام کرتا تھا۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا ہے کہ کراچی میں ایک عرصے سے احمدی جماعت کی ٹارگٹ کلنگ کے افسوس ناک واقعات ہو رہے ہیں لیکن حکومت ان واقعات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں