’دس دن میں لاپتہ افراد بازیاب کروائیں‘

Image caption سپریم کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وزارتِ دفاع اور فرنٹیئر کور تعاون نہیں کر رہے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بلوچستان سے لاپتہ افراد کے درجنوں کیسز میں انہیں بازیاب کرانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتی اداروں کو دس یوم کی مہلت دیدی ہے۔

یہ حکم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے بدھ کو کوئٹہ میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران دیا۔

’معاملہ سکیورٹی فورسز کا ہے، عدالت انتہائی اقدام نہیں چاہتی‘

سپریم کورٹ نے تین دن تک کوئٹہ میں اس کیس کی سماعت کی ہے۔ عدالت نے جن کیسز میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا حکم دیا تھا تیسرے روز بھی ان میں سے کسی کو بھی پیش نہیں کیا گیا۔

تاہم لاپتہ افراد کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب ایک خفیہ رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے بارے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان شاہ خاور ایڈدوکیٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک جامع منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل کا دفتر اس حوالے سے رہنمائی کر رہا ہے۔ لاپتہ افراد کے حوالے جو کیسز ہیں، ان کو ہم اعلیٰ سطح پر تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ اٹھائیں گے۔ ہمیں امید کہ اس سے لوگوں کی تکالیف کا مداوا ہوگا اور عدالتی احکامات پر بھی عملدرآمد ہوگا۔‘

لاپتہ افراد کی بازیابی میں پیش رفت نہ ہونے پر عدالت نے شدید بر ہمی کا اظہار کیا تھا۔

عدالت نے لاپتہ افراد کے کیسز کی درجہ بندی کی ہے۔ جو کیسز پولیس، فرنٹیئر کور اور خفیہ ایجنسیوں سے متعلق تھے ان کے حوالے سے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے لاپتہ افراد کو دس یوم میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار اور فوج کے میجر رینک کے دو افسر لاپتہ افراد کے کیسز میں تفتیش کے لیے مطلوب ہیں۔ ان تک رسائی اور تفتیش کے لیے متعلقہ حکام کو متعدد بار مراسلے بھجوائے گئے لیکن ان تک رسائی نہیں دی گئی۔

سپریم کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وزارتِ دفاع اور فرنٹیئر کور تعاون نہیں کر رہے ہیں۔

عدالت نے وزارت دفاع، فرنٹیئر کور اور دیگر متعلقہ اداروں کو حکم دیا کہ وہ ان اہلکاروں کو مطلوبہ تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کریں۔

اسی بارے میں