پاکستان کا ہلاکتوں پر افغانستان سے احتجاج

Image caption دریں اثنا بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ڈبل روڈ پر ہزارہ برادری کے افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے

پاکستان نے صوبہ بلوچستان کےعلاقے ژوب میں پاک افغان سرحد پر ایک جھڑپ میں پانچ پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے اس واقعے پر احتجاج کیا ہے۔

ضلع ژوب کے گاؤں گوڈوانہ میں بدھ کو افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپ میں پانچ پاکستانی شہری ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی طرف سے بدھ کی شام جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے اس واقعے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکام سے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔‘

بیان کے مطابق افغان حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’وہ سرحد پر رابطوں اور تعاون کے طریقۂ کار پر عمل کرے اور آئندہ اس قسم کا واقعہ ہونے نہ دے کیونکہ ایسے واقعات دونوں ممالک کے درمیان اچھے اور دوستانہ تعلقات کو خراب کرنے کے مترادف ہیں۔‘

اس سے پہلے ڈی سی او ژوب نے ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا تھا کہ یہ واقع بدھ کو ضلع ژوب کے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے قمرالدین کاریز میں پیش آیا۔

انھوں نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے دوران کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔

ضلعی افسر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں طالبان جنگجو بھی مارے گئے۔

یاد رہے کہ ضلع ژوب میں طالبان کے ساتھ سکیورٹی فورسز کے جھڑپوں کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں جس میں جانی نقصان ہوتا رہا ہے جبکہ ژوب دہشتگردی کا بھی شکار رہا ہے۔

گزشہ سال نومبر میں ژوب شہر میں فرنٹئیر کور کے صدر دفتر کے قریب ایک دھماکے میں دو ایف سی کے اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی طرح جنوری 2012 میں ضلع ژوب میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں چھ شدت پسند ہلاک جبکہ تیرہ گرفتار کیے گئے تھے جبکہ اس واقعے میں ایف سی کے دواہلکار زخمی ہوئے تھے۔

دریں اثناء بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کو ڈبل روڈ پر ہزارہ برادری کے افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں منگل کی رات کو کوئٹہ سے ایک ڈاکٹر کو بھی اغوا کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں