ملا برادر آج رہا ہو جائیں گے: دفترِ خارجہ

Image caption رواں سال کے شروع میں پاکستان نے کہا تھا کہ افغانستان اور طالبان کے مفاہمتی عمل میں مددگار ثابت ہونے والے طالبان کی رہائی کا عمل جاری رہا تو تمام افغان طالبان رہا ہو جائیں گے

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان طالبان رہنما ملا عمر کے نائب ملا عبدالغنی برادر کو آج سنیچر کو رہا کیا جا رہا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے یہ اعلان ایک مختصر سے بیان میں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ دس ستمبر کو وزیر اعظم پاکستان کے سینیئر مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان رہنما ملا عمر کے نائب ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ملا برادر کون؟

’برادر کی گرفتاری اہم پیش رفت‘

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ملا برادر کو پاکستان میں رہا کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ملا برادر کو سعودی عرب یا عرب امارات منتقل کر دیا جائے۔

پاکستان نے گزشتہ سال چھبیس طالبان کو رہا کیا تھا جبکہ ستمبر ہی میں سات مزید طالبان کو رہا کیا۔ لیکن افغان حکومت اور افغان امن کونسل کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ رہا کیے گئے طالبان میں کوئی بھی بڑا رہنما نہیں ہے۔

واضح رہے کہ مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے ملا برادر کی رہائی کا اعلان ایسے وقت کیا تھا جب ایک روز قبل ہی کل جماعتی کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔

رواں سال کے شروع میں پاکستان نے کہا تھا کہ افغانستان اور طالبان کے مفاہمتی عمل میں مددگار ثابت ہونے والے طالبان کی رہائی کا عمل جاری رہا تو تمام افغان طالبان رہا ہو جائیں گے۔

پاکستان نے کہا تھا کہ پاکستان نے زیر حراست افغان طالبان کو رہا کرنے کا عمل شروع کیا ہوا ہے اور خاص طور پر وہ طالبان جو مفاہمتی عمل میں مددگار ثابت ہوں گے۔

فروری سال دو ہزار دس میں پاکستان کی فوج نے ملا برادر کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی جبکہ اس وقت وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ طالبان رہنما کو دس دن پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔

افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے ملا عمر اور بلا برادر ایک ہی مدرسے میں درس دیتے تھے اور انیس سو چورانوے میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین میں سے تھے۔ملا برادر طالبان دور میں ہرات صوبے کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہے ہیں۔

ملا عبد الغنی برادر افغانستان میں طالبان کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ تنظیم کے رہنماؤں کی کونسل اور تنظیم کے مالی امور چلاتے تھے۔

ملا برادر کا تعلق بنیادی طورپر افغانستان کے جنوبی ضلع اورزگان سے بتایا جاتا ہے لیکن وہ کئی سال طالبان کے مرکز کے طور پر مشہور افغان صوبہ قندھار میں مقیم تھے۔

افغانستان پر کام کرنے والے اکثر صحافیوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملا محمد عمر نے جب افغانستان میں طالبان تحریک کا آغاز کیا تو ملا برادر ان چند افراد میں شامل تھے جنھوں نے بندوق اٹھا کر طالبان سربراہ کا ہر لحاظ سے ساتھ دیا اور تحریک کی کامیابی تک وہ ان کے ساتھ ساتھ رہے۔

تاہم جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو ان کے پاس کوئی خاص عہدہ نہیں تھا۔ بعد میں انھیں ہرات کا گورنر بنا دیا گیا۔

ملا برادر طالبان تحریک میں اہم فوجی کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ طالبان کے آرمی چیف بھی رہ چکے ہیں۔ طالبان نے سنہ 1998 میں جب افغان صوبے بامیان پر قبضہ کیا تو اس حملے کے وقت ملا برادر طالبان کے کمانڈر تھے۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے طالبان کمانڈروں کےلیے ایک کتابچے کی صورت میں ضابطۂ اخلاق بھی تحریر کیا تھا جس میں جنگی گرُ ، قیدیوں اور غیر ملکیوں سے سلوک اور دیگر طریقے بتائے گئے ہیں۔

اسی بارے میں