بلوچستان میں اصلاحات اور فیض کی کلچرل پالیسی

Image caption لندن میں واقع فرینڈز ہاؤس میں سنیچر کو فیض کلچرل فاؤنڈیشن کی جانب سے فیص میلے کا انعقاد کیا گی

بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے لندن میں فیض میلے کے دوران صوبے کے لیے نئی تعلیمی اور ثقافتی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات دراصل فیض احمد فیض کی دی گئی کلچرل پالیسی کا حصہ ہیں۔

لندن میں واقع فرینڈز ہاؤس میں سنیچر کو فیض کلچرل فاؤنڈیشن کی جانب سے فیض میلے کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے شرکت کی۔

فیض احمد فیض کی سالگرہ کے سلسلے میں ہونے والے اس میلے میں نمایاں شخصیات نے خطاب کیا اور معاشرے میں انسانی حقوق کے فروغ کے لیے فیض کی خدمات کو یاد کیا۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں مادری زبانوں کے فروغ کے لیے جلد قانون سازی کی جائے گی تاکہ سکولوں میں میٹرک تک تمام مادری زبانیں پڑھائی جائیں۔ اس کے علاوہ مختلف زبانوں میں لکھے گئے قومی اور بین الاقوامی ادب کا علاقائی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں کلاسیکی اور علاقائی موسیقی کو اہمیت نہیں دی جا رہی اور اس سلسلے میں فیض کی سوچ کے مطابق علاقائی آرٹس کونسل وقت کی ضرورت ہیں۔انہوں نے اپنے حلقے کیچ میں علاقائی موسیقی سروز کے ختم ہوتے ہوئے رواج کے پیش نظر موسیقی اور فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے ادارے کا بھی اعلان کیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے فیض احمد فیض کے اعزاز میں بلوچستان یونیورسٹی میں ’چیئر آف ایکسیلینس‘ کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان ایک آزاد خیال معاشرہ ہے جہاں کسی بھی شخص کا دین اس کا ذاتی معاملہ ہے اور بلوچستان کی حکومت مذہبی شدت پسندی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے پرعزم ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر حاصل بزنجو نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بارے میں بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں شیعہ کے قتل کو ثواب سمجھا جائے اور جہاں خود کش دھماکے کرنے والوں کو جنتی مانا جائے وہاں انسانی حقوق کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے میلے کے شرکا سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ بے شک پاکستان میں تنظیموں کی مالی امداد کریں مگر اگر وہ وہاں ایک سکول کی بنیاد رکھیں گے تو معاشرے کی بہترین مدد کر سکیں گے۔

اس موقعے پر تقریب سے برطانیہ میں پاکستان کے سفیر واجد شمس الحسن نے بھی خطاب کیا اور فیض کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حاضرین کو فیض کلچرل فاؤنڈیشن کی مالی مدد کرنے کی درخواست کی تاکہ ہر سال فیض میلے کا انعقاد ممکن ہو سکے اور فیض کے پیغام کو یاد رکھا جا سکے۔

تقریب میں مشہور گلوکار جواد احمد نے پرفارم کیا جبکہ نجمہ اختر، لوولینا کمار اور نیش نے بھی فیض کی مشہور غزلیں پیش کیں۔ تقریب میں لندن میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر جمیل پانیزئی نے فیض احمد فیض کی مشہور غزل ’مجھ سے پہلی سے محبت‘ کو پشتو میں گایا جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔

اسی بارے میں