چلو، چلو کرسچین قبرستان چلو

پشاور میں اندرون شہرکا ایک علاقہ آسیہ (ایشیا سے منسوب) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہے تو یہ معمول کی ایک عام سی شہری آبادی اور شاید اس کے اپنے رہنے والوں کو بھی اندازہ نہ ہوکہ یہاں غیر معمولی بات کیا ہے لیکن اتوار کی صبح جب یہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر آل سینٹس چرچ میں خودکش حملے میں درجنوں افراد لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تو اس وقت لوگوں کو اس نام کا پتا چلا۔

جب یہاں قائم عیسائی بستی میں یہ خبر پہنچی کہ اتوار کی سروس کے لیے متاثرہ چرچ میں جانے والوں میں سے بہت سے یا تو ہلاک ہوگئے ہیں یا زخمی ہیں تو ہر طرف کہرام مچ گیا اور کیا عیسائی کیا مسلمان سب اس چرچ کی جانب دوڑ پڑے جو یہاں سے کچھ فاصلے پر کوہاٹی گیٹ میں واقع ہے۔

اس علاقے کے لوگ کوہاٹی گیٹ معمول میں آتے جاتے ہیں کیونکہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں پر پوری دنیا سے استعمال شدہ جوتے، کپڑے،گھروں کے پردے اور پتا نہیں کیا کیا سستے داموں مل جاتا ہے۔

آسیہ گیٹ بھی پشاور کے فصیل بند شہر کے ان آٹھ دروازوں میں سے ایک تھا جنہیں جب ہماری پیدائش سے بہت پہلے سرشام بند کر دیا جاتا تو شہر ان دروازوں کے بیچ محفوظ ہو جاتا تھا۔ اس علاقے میں مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کی آبادیاں ہیں جن میں کہیں کہیں ہندو بھی ملتے ہیں۔

اسی علاقے میں کالو محلہ کے نام سے مشہور عیسائیوں کا محلہ اور محلہ جوگن شاہ کے نام سے جانا جانے والا سکھ محلہ آباد ہیں جہاں سکھوں کے مقدس ترین گوردواروں میں سے ایک بھائی جوگا سنگھ کا گوردوارہ واقع ہے۔ ان بستیوں کا ارد گرد کے محلوں میں صدیوں سے ان کے ساتھ رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ میل جول اس علاقے کی وہ حقیقت ہے جو آج بھی تقسیم ہند سے پہلے کی یاد دلاتی ہے۔

اتوار کو کالو محلے کے دو گھروں میں متاثرہ چرچ سے آٹھ لاشیں لائی گئیں۔ ان میں سے ایک مکان میرے ہم جماعت پپو کا ہے جس کے گھر کے چھ افراد مرنے والوں میں شامل تھے۔

پپو دھاڑیں مار کر رو رہا تھا اور جب پاکستانی میڈیا کے ایک بڑا چینل یہ ’خودکش حملہ‘ کر رہا تھا کہ ’شہرکی صفائی کرنے والوں کا دہشت گردوں نے صفایا کر دیا،‘ اس وقت کالو محلے کے پپو کے گرد مسلمان دوستوں کی ایک بڑی تعداد اکٹھی ہو چکی تھی جو چپکے چپکے اپنی جیبوں میں موجود رقوم میں سے کچھ گن کر جمع کر رہے تھے۔

اور پھر منٹوں میں جمع ہونے والے یہ ہزاروں روپے انہوں نے لواحقین کو تھمائے اور خود بیلچے اٹھا کر وزیر باغ کے قریب واقع کرسچین قبرستان میں پہنچ گئے۔

ان افراد میں سے شامل عبدالروف سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگے سب لوگ ایسے افسردہ ہیں جیسے ان کے اپنے گھروں میں لوگ مرے ہوں اور مساجد میں اعلانات ہو رہے ہیں کہ کالو محلے میں مدد کرنے پہنچو اور جو جوان ہیں وہ قبرستان پہنچیں تاکہ قبریں کھودی جا سکیں۔

یہ سارے مقامی لوگ اور جوان دھماکہ ہونے سے لے کر رات گئے تدفین تک لواحقین کے ہمراہ موجود رہے اور میتیں دفنا کر ہی اپنے گھروں کو لوٹے۔

یقیناً یہ سانحہ بڑا تھا جس نے اس قسم کے حادثوں کے عادی پاکستان کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا لیکن اس ساری تصویرکے ایک کونے میں ایک رنگ اور بھی تھا جو یہ ظاہر کر رہا تھا کہ دہشت کا منصوبہ بنانا اور اس کو عملی جامہ پہنانا توشاید آسان ہے لیکن اس عمل کے بدنما رنگوں پر حاوی ایک رنگ اور بھی ہے جو انسانیت کا رنگ ہے اور جو دھندلا ضرور پڑ گیا ہے، لیکن لیکن پایا ضرور جاتا ہے۔

اس رنگ کو برقرار رکھنے والے آسیہ گیٹ کا پپو، عبدالرؤف، صاحب سنگھ اور ہارون سرب دیال ہیں۔ اور شاید یہی وہ لوگ ہیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ ابھی دلوں میں نفرتوں نے جڑ نہیں پکڑی اور اس قسم کے حملے مقامی سطح پر مزید قربتوں کا باعث بنتے ہیں۔

جس نے بھی دہشتگردی کا یہ منصوبہ بنایا تھا وہ ان لاشوں کو دیکھ کر خوش ہونے کی بجائے کرسچین قبرستان میں گرنے والے مسلمان جوانوں کا پسینہ دیکھے جو شاید ان شدت پسندوں کے سوالوں کا جواب بھی ہے۔

اسی بارے میں