مسیحی برادری کی عبادت گاہیں نشانے پر

پاکستان میں مسیحی برادری پر توہین مذہب کے الزام میں حملوں کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں تاہم امریکہ میں نائن الیون کے دہشت گرد حملے کے بعد سے یہاں مسیحی برادری کے گرجا گھروں کو شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنانے کا رجحان بھی شروع ہوا ہے۔

اتوار کو پشاور کے کوہاٹی گیٹ کے قریب واقع گرجا گھر پر ہونے والے خودکش حملوں میں اب تک مسیحی برادری کا کسی ایک واقعے میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر بہاولپور میں اٹھائیس اکتوبر 2001 کو ایک چرچ پر مسلح افراد کے حملے میں بچوں سمیت سولہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کوہاٹی گیٹ چرچ پر خودکش حملے:تصاویر

عیسائیوں پر حملے، بیمار ذہنوں کا کام

ایک سال بعد 17 مارچ 2002 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سفارت خانوں کے لیے مخصوص علاقے میں واقع چرچ پر دستی بم سے حملے میں ایک امریکی خاتون اور ان بیٹی سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس علاقے میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظام ہوتے ہیں۔

اسی سال اگست میں صوبہ پنجاب کے پرفضا پہاڑی تفریحی مقام مری میں واقع غیر ملکیوں کے ایک مشنری سکول پر مسلح افراد کے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں تھا۔

سنہ 2002 میں ہی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مسیحی برادری کے ایک فلاحی ادارے’ادارہ برائے امن و انصاف‘ پر مسلح افراد کے حملے میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک شدگان کو پہلے رسیوں سے کرسی پر باندھا گیا اور بعد میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

نو اگست سنہ 2002 میں ٹیکسلا کے پرسبٹیرئن ہسپتال کے گرجا گھر پر ہونے والے حملے میں چار خواتین ہلاک ہو گئیں تھیں۔

25 دسمبر کو کرسمس کے موقع پر پنجاب کے شہر ڈسکہ میں ایک چرچ پر دستی بم کے حملے میں تین لڑکیاں ہلاک اور متعدد خواتین زخمی ہو گئی تھیں۔

پاکستان میں 2003 میں مسیحی برادری پر کسی بڑے حملے کا واقعہ پیش نہیں آیا مگر 2004 کے پہلے ماہ جنوری کی 15 تاریخ کو کراچی میں کرسچین بائبل سوسائٹی کے باہر کار بم دھماکے میں 12 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

Image caption رواں سال ہی لاہور کے علاقے بادامی باغ میں واقع عیسائی بستی جوزف کالونی پر اس وقت دھاوا بول دیا تھا اور علاقے میں واقع 180 مکانات کو آگ لگا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا

اپریل 2005 میں پروٹیسٹنٹ پادری بابر سیموئن اور ان کے ڈرائیور کی مسخ شدہ لاشیں پشاور کے ناصر باغ کے ایک ویران علاقے سے ملیں تھیں۔ نومبر میں ہی پنجاب کے شہر سانگلہ ہل میں توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم نے دو گرجا گھروں کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔

اگست 2006 میں لاہور شہر کے نواح میں ایک عیسائی گرجا گھر کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے عمارت کے اندرونی حصے کو نقصان پہنچا تھا۔

دسمبر 2010 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ایک گرجا گھر کے مرکزی دروازے پر دھماکہ ہوا تاہم اس دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پاکستان میں سال دو ہزار دو میں مسیحی برادری کی عبادت گاہوں کو شدت پسندوں نے نشانہ بنانا شروع کیا تھا تاہم گزشتہ کئی سالوں کے دوران اس ضمن میں کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا لیکن اس دوران لاہور، گوجرہ، گوجرانوالہ سمیت مسیحی برادری کی آبادیوں پر مشتعل افراد کا دھاوا بولنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اسی بارے میں