پشاور دھماکے: ہلاکتیں اٹھہتر، درجنوں زخمی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کوہاٹی گیٹ کے قریب ایک گرجاگھر پر دو خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 78 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 100 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

وفاقی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ ملک کے مشنری سکول بھی تین دن تک بند رہیں گے۔

یہ حملہ پاکستان کی تاریخ میں عیسائی برادری پر ہونے والے بدترین حملوں میں سے ایک ہے اور دھماکوں میں ہلاکتوں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں مسیحیوں نے مظاہرے بھی کیے ہیں۔

یہ دھماکے اتوار کی صبح اس وقت ہوئے جب مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد دعائیہ تقریب کے لیے آل سینٹس کیتھیڈرل نامی چرچ میں جمع تھے۔

اہل اقتدار کی خاموشی ہی اصل طالبانیت

ہسپتال کے اندر خون تھا تو باہر صرف اشتعال

چرچ پر دو خودکش حملوں کے بعد: تصاویر

حکام کے مطابق لوگ عبادت کے بعد گرجا گھر سے باہر نکل رہے تھے کہ دھماکے ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے وقت جائے وقوع پر پانچ سے چھ سو افراد موجود تھے ۔

پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق دو خودکش حملہ آوروں نے گرجا گھر کے اندر مختلف مقامات پر اپنے آپ کو دھماکے سے اْڑایا۔

اتوار کی شام پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے ملاقات کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے میڈیا کو بتایا کہ ’گرجا گھر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھہتر ہے جن میں چونتیس خواتین اور سات بچے بھی شامل ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دھماکوں کے گیارہ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

ایس پی سٹی نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے جو چرچ کے گیٹ پر ڈیوٹی دے رہا تھا جبکہ ایک دوسرا پولیس اہلکار شدید زخمی ہوا ہے۔

گرجا گھر کی انتظامی کمیٹی کے رکن ڈینیئل سیمیول نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے چرچ میں داخل ہوئے اور پھر یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔ ڈینیئل سیموئل کے مطابق خودکش حملہ آوروں کی عمر سترہ اٹھارہ سال تھی۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے اے آئی جی شفقت ملک کے مطابق ان دو خودکش حملوں میں کم از کم سولہ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

دھماکے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں میں حصہ لیا جس میں بعد میں امدادی ادارے بھی شامل ہوگئے اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا۔

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پشاور سے اسلام آباد منتقل کرنے کے احکامات بھی دیے ہیں۔

اس دھماکے کی عینی شاہدہ سوشیلا مراد کا کہنا ہے کہ ’گیارہ بجے جب چرچ ختم ہوا تو سارے لوگ معمول کے مطابق ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ چلتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ تھوڑا ٹھہرو۔۔۔اسی وقت بس ایک طوفان سا آیا، دھماکہ ہوا اور میں ادھر ہی گر گئی۔ اس کے بعد میرے شوہر نے آ کر مجھے اٹھایا۔‘

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان اور زخمیوں میں زیادہ تعداد علاقے میں واقع مشنری سکولوں کے اساتذہ اور طالبعلموں کی ہے جو اس ہفتہ وار عبادت میں بڑی تعداد میں شرکت کرتے تھے۔

چرچ پر حملوں کے بعد عیسائی برادری نے پشاور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں مظاہرے کیے۔

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق مشتعل عیسائی برادری نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایمرجنسی میں توڑ پھوڑ کی اور سی سی پی او پشاور محمد علی بابا خیل کو بھی گھیر کر ان پر پتھراؤ کیا۔

مظاہرین صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان اور صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کر رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی صوبائی وزیر نہ تو جائے وقوع پر اور نہ ہی ہسپتال پہنچا۔

کراچی میں عیسیٰ نگری میں ہونے والے مظاہرے میں احتجاج کرنے والے افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تاہم پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے میں کامیاب رہی۔

اسی بارے میں