اب کے صبر شاید پانچ برس کا انتظار نہ کرے

Image caption حملے کے بعد سو دن پرانی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی گئی

پاکستان کی تاریخ میں مسیحیوں پر سب سے بڑے جان لیوا حملے نے تقریباً ہر کسی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

پشاور کے انتہائی غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ تو ویسے ہی روزانہ کی بنیاد پر مرتے جیتے تھے، اب مارنے والوں نے ان کا آدھا کام آسان کر دیا کہ انہیں دوبارہ جینا نہیں پڑے گا۔

شدت پسندوں نے جس آل سینٹس چرچ کے سفید درودیوار کو لہولہان کیا وہ 133 برسوں سے اس شہر کے قدیمی حصے میں کھڑا ہے۔

یہ چرچ معتدل سوچ، کھلے دل و دماغ والے شہریوں اور ایک پرامن شہر کی مثال تھا۔ وہ شہر جہاں ہندو، سکھ، عیسائی بغیر کسی خوف کے صدیوں سے مسلمانوں کے ساتھ مقیم تھے۔

اس چرچ کے بغل میں ایڈورڈز ہائی سکول وہ مشنری درس گاہ ہے جہاں میں نے بچپن اور سکول کے دس سال بِتائے۔ ہم روزانہ اس چرچ کے آگے میدان میں صبح سکول لگنے سے قبل کھیلا کرتے تھے مگر نہ کبھی اس گرجا گھر میں جانے کا موقع ملا نہ کبھی ضرورت محسوس کی۔

اس ایک دہائی کے دوران کبھی یاد نہیں آتا کہ اس چرچ کی جانب کسی نے میلی آنکھ اٹھا کر دیکھا ہو۔ 1992 میں اس علاقے میں مذہبی بنیادوں پر ایک مرتبہ کشیدگی کرفیو کا سبب بنی لیکن وہ شیعہ سنی جھگڑا تھا، عیسائی مسلم لڑائی نہیں۔ لیکن اب اس عبادت گاہ کو ہی خون سے نہلا دیا گیا۔

عسکریت پسندی کے شکار صوبہ خیبر پختونخوا میں یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔ ایک برس قبل مردان میں ایک چرچ نذرِ آتش کیا گیا تھا۔ لیکن پھر سننے میں آیا کہ اُس واقعے کی وجہ کوئی اور تھی لیکن مسجد کی طرز کے غیر معمولی آرکیٹیکچر کے حامل چرچ کو نشانہ یقینی طور پر مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔

اب تک کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن سمجھ میں یہی آتا ہے۔ ورنہ کوئی اور اتنا مہلک حملہ کیوں کرے گا؟

اس حملے کے بعد سو دن پرانی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی گئی ہے، اس کی وجہ کسی کی نااہلی اور ناکامی سے زیادہ لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہونا ہے۔

یہ وہی صبر ہے جو پچھلے تین چار عام انتخابات میں ایک نئی قسم کی حکومت کو وجود بخشتا ہے۔ پانچ سال ایم ایم اے، تو پانچ سال عوامی نیشنل پارٹی کو دیے لیکن جب حالات نہیں بدلے تو ان کا ایسا صفایا کیا کہ اقتدار کے ایوانوں میں ان کا نام و نشان بھی نہ رہا اور اس مرتبہ یہ صبر شاید پانچ برس کا بھی انتظار نہ کرے۔

عمران خان شدت پسندوں کی جانب قدرے مبہم سا یا ان کی جانب جھکتا ہوا موقف اختیار کر کے شاید اپنی جماعت کو تو طالبان کے قہر سے بچا لیں لیکن کیا وہ اس صوبے کے عوام کو بچا پائیں گے؟ یہی ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کا احساس انہیں ہے یا نہیں اس بارے میں اکثر لوگ ابہام کا شکار ہیں۔

ان کا موقف کہ یہ حملہ ان لوگوں کا کام ہے جو مذاکرات نہیں چاہتے، زیادہ وزن نہیں رکھتا۔ یہ اسی طرح کا گھسا پٹا روایتی بیان ہے جس میں ’بیرونی ہاتھ‘ کو ہر کارروائی کی وجہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ وہ ہاتھ آج تک کسی نہیں دیکھا لہٰذا مذاکرات مخالف قوتیں بھی شاید کبھی سامنے نہ آسکیں۔

عمران خان نے ایک بیان میں اس حملے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ اگر سپریم کورٹ انہیں اس لفظ کے استعمال پر چھوڑ سکتی ہے تو شاید شدت پسند بھی اس کا زیادہ برا نہیں منائیں گے۔

پاکستان میں جاری شدت پسندی کے گذشتہ بارہ سالوں میں نہ تو امن مذاکرات سے کچھ افاقہ ہوا اور نہ ہی فوجی کارروائیوں سے۔ اور کسی دائمی حل تک اپنی بیٹی کھو دینے والے ریاض مسیح کو شک ہی رہے گا کہ وہ اس مملکت خداداد کے برابر کے شہری ہیں یا نہیں۔

اسی بارے میں