مسیحی برادری کا احتجاج، کراچی میں ایک شخص ہلاک

Image caption وفاق اور خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے

کراچی کے علاقے کورنگی میں مائیکل ٹاؤن میں عیسائی برادری کے احتجاج کے دوران دو گروہوں میں تصادم ہوگیا ہے، جس میں ایک شخص ہلاک اور پانچ کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔

ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور واقعے کے خلاف احتجاج کے دوران گزشتہ روز علاقے میں موجود مسجد کے بورڈ پر کچھ پتھر لگے، جس پر علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی لیکن دونوں فریقین کو بٹھاکر معاملہ نمٹا دیا گیا۔

پولیس کے مطابق پیر کی شام عیسائی برادری نے دوبارہ احتجاج کیا، جس کے بعد دوبارہ کشیدگی پیدا ہوگئی جس میں خنجر کے وار کرکے نذر محمد نامی نوجوان کو ہلاک کردیا گیا جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد بڑی تعداد میں مسلم آبادی کے نوجوان جمع ہوگئے ہیں، جنہیں منتشر کرنے کے لیے شیلنگ بھی کی گئی ہے، ایس ایس پی پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ مائیکل ٹاؤن میں پولیس اور رینجرز تعینات کردی گئی ہے۔ فریقین سے مذاکرات جاری ہیں۔

پشاور میں ایک گرجاگھر پر اتوار کو ہونے والے دو خودکش حملوں میں اسی افراد کی ہلاکت پر عیسائی برادری بح ملک کے دوسرے شہروں میں مظاہرے کیے۔

اتوار کو چرچ میں خودکش حملوں کے بعد مسیحی برادری نے احتجاج شروع کیا تھا اور پیر کو بھی اسلام آباد، پشاور، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

وفاق اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جب کہ ملک کے مشنری سکول بھی تین دن تک بند رہیں گے۔

چرچ پر حملہ: پاکستان کے اخبارات کا جائزہ

اب صبر شاید پانچ برس انتظار نہ کرے

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں عیسائی برداری کے احتجاج کو ایک بار پھر شیلنگ اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، سخی حسن قلندری چوک پر عیسائی برادری کے لوگوں نے نکل کر احتجاج کیا۔

احتجاج کے دوران گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے شیلنگ کی جس کے بعد ہوائی فائرنگ کی گئی۔ اس سے پہلے اتوار کو بھی عیسیٰ نگری میں بھی عیسائی برادری کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔

Image caption کراچی میں عیسائی برداری کے احتجاج کو ایک بار پھر شیلنگ اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا

ادھر سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ارکین اسمبلی نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شرکت کی، ایوان میں ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی گئی۔

حملے کے خلاف وکلا نے کراچی کی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا، ہائی کورٹ، سٹی کورٹس اور ملیر کورٹ میں وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

دوسری جانب نامور فلاحی رضاکار عبدالستار ایدھی نے بولٹن مارکیٹ سے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار تک مارچ کیا، بزرگ عبدالستار ایدھی جن کے دونوں گردے فیل ہو چکے ہیں، وہیل چیئر پر سوار تھے اور ایک رضاکار ان کی مدد کر رہی تھیں۔

اسلام آباد میں مظاہرین مرکزی شاہراہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر احتجاج کر رہے ہیں۔

یہ دھماکے اتوار کی صبح اس وقت ہوئے جب مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد دعائیہ تقریب کے لیے آل سینٹس کیتھیڈرل نامی چرچ میں جمع تھے۔

حکام کے مطابق لوگ عبادت کے بعد گرجا گھر سے باہر نکل رہے تھے کہ دھماکے ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے وقت جائے وقوع پر پانچ سے چھ سو افراد موجود تھے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں 80 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ موقع پر ہی دم توڑ دینے والے مزید آٹھ سے دس افراد کی لاشوں کو ہسپتال لایا ہی نہیں گیا۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں کل 206 افراد لائے گئے جن میں سے 78 چل بسے جب کہ 56 کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا اور باقی زخمی ابھی ہسپتال میں ہیں جن میں سے دس کی حالت نازک ہے۔

حکام کے مطابق مرنے ولوں میں 34 خواتین اور سات بچے بھی شامل ہیں۔ نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق خود کش حملہ آوروں نے چرچ کے داخلی دروازے کے قریب جس مقام پر دھماکے کیے وہاں دیوار کے ساتھ بڑی تعداد میں خواتین اور بچے کھڑے تھے کیونکہ اس وقت وہاں کھانا تقسیم ہو رہا تھا۔

ان دھماکوں کے عینی شاہدین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دو خودکش حملہ آور چرچ کے بڑے دروازے سے داخل ہوئے تھے اور انہوں نے تقریباً دو منٹ کے وقفے سے اپنے آپ کو اڑایا۔ دونوں حملہ آوروں کے درمیان فاصلہ پانچ سے چھ فٹ تک تھا اور چرچ کے صحن میں اس کے واضح نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔

ادھر ہلاک شدگان کی تدفین کا عمل اتوار کی رات بھر جاری رہا اور شہر کے تین قبرستانوں وزیر باغ، گورا قبرستان اور شریف آباد قبرستان میں 80 افراد کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔

یہ حملہ پاکستان کی تاریخ میں عیسائی برادری پر ہونے والے بدترین حملوں میں سے ایک ہے اور دھماکوں میں ہلاکتوں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں مسیحیوں نے مظاہرے کیے ہیں۔

اسی بارے میں