سندھ : ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور گرفتار

Image caption پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 199 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہروں کراچی اور نوابشاہ سے رینجرز اور پولیس نے 216 مشتبہ افراد کو حراست لیا ہے جن میں ٹارگٹ کلرز، افغان شہری اور بھتہ خور شامل ہیں۔

کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران رینجرز نے پینتیس ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق یہ گرفتاریاں، سائٹ، اورنگی اور شیر شاہ سے کی گئی ہیں۔

رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان میں بھتہ خور اور سیاسی جماعتوں سے منسلک ٹارگٹ کلر بھی شامل ہیں جن سے خودکار ہتھیار اور دستی بم بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

کنواری کالونی میں رینجرز کا چھاپہ، ’طالبان‘ گرفتار

دوسری جانب پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 199 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں ساٹھ مفرور اور چار ڈاکو شامل ہیں، اس کے علاوہ ستائیس ملزمان کو غیر قانونی اسلحے سمیت حراست میں لیا گیا ہے۔

دریں اثناء نوابشاہ کے کچے کے علاقے سے پولیس نے بارہ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے، ڈی ایس پی اعجاز ترین کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان افغان شہری ہیں جن سے ایک کلاشنکوف اور چھ ٹی ٹی پستول برآمد کیے گئے ہیں۔

ڈی ایس پی اعجاز کے مطابق ملزمان سہراب گوٹھ اور فیروز آباد تھانوں کو قتل اور دیگر مقدمات میں مطلوب ہیں اور وہ کراچی میں جاری آپریشن سے بچنے کے لیے نوابشاہ آ گئے تھے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے گذشتہ ہفتے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی تھی جس کے تحت پیرا ملٹری فورس رینجرز کو نظربندی کے اختیارات بھی دینے کی بات کی گئی تھی تاہم وہ یہ اختیار صوبائی حکومت کی اجازت کے بعد استعمال کر سکیں گے۔

انسدادِ دہشتگردی ایکٹ میں دہشت گردی کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ بھتہ خوری میں پولیس افسر اس مقدمے کا مدعی ہوگا۔

اس ترمیمی مسودے میں پیرا ملٹری فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزاحمت کی صورت میں شدت پسند، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث افراد کو گولی مارنے کا بھی اختیار ہوگا۔

اسی بارے میں