رہائش کے لیے برطانیہ آنا اور مشکل

Image caption برطانیہ میں رہائش کے مقصد کے لیے آنے والوں کی تعداد پہلے سے کم کی جا رہی ہے: ٹریسا مے

پاکستان اور برطانیہ نے جرائم کی بیخ کنی کے لیے انسانوں اور منشیات کی سمگلنگ اور منظم جرائم کی روک تھام کے معاملے پر ایک معاہدے پردستخط کیے ہیں۔

منگل کو اس معاہدے پر دستخط برطانوی وزیرِ داخلہ ٹیریسا مے کے دورۂ پاکستان کے دوران کیے گئے ہیں۔

دورے کے پہلے مرحلے میں برطانوی وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں اپنے ہم منصب چوہدری نثارعلی خان سے ملاقات کی اور میڈیا کے سوالوں کے جواب دیے۔

برطانوی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں رہائش کے مقصد کے لیے آنے والوں کی تعداد پہلے سے کم کی جا رہی ہے اوراس سلسلے میں بعض اہداف مقرر کیے گئے ہیں کیونکہ اس رجحان کو قابو کرنا بڑا ضروری ہوگیا ہے اور یہ بہت سارے شعبوں میں برطانیہ کو متاثر کر رہا ہے۔

برطانیہ الطاف حسین کا حامی کیوں؟

برطانوی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے اپنے ہاں جرائم اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے دیگر ممالک سے ہجرت کر کے غیرقانونی طور پر آنے والوں کے لیے کچھ قانونی حدود مقرر کی ہیں جن کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

برطانوی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ اب صرف ان لوگوں کی برطانیہ آمد کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جواس معاشرے میں فعال اور مثبت کردار ادا کرنے کے لیے آ رہے ہوں نہ کہ وہ جرائم میں اضافے کا باعث بنتے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے بعض اثرات نظر آنا شروع ہو چکے ہیں۔

اس موقعے پر دونوں ملکوں کے مابین ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے جس کے تحت دونوں ممالک منشیات اور انسانی سمگلنگ کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے اور ان کی خفیہ ایجنسیاں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گی تاکہ دونوں ممالک میں سنگین نوعیت کے بڑے جرائم اوردہشت گردی کو روکا جا سکے۔

ٹیریسا مے کا کہنا تھا کہ جرائم اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے برطانیہ میں ایک نئی برطانوی کرائم ایجنسی کام شروع کرے گی جو ان سارے معاملات کی نگرانی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آج ہجرت یعنی امیگریشن سے متعلق قوانین میں تبدیلی سے آگاہ کر دیا ہے اور انہیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ اب وہاں صرف قانونی طور پر آنے والے پاکستانیوں کوخوش آمدید کہا جائے گا جب کہ وہ لوگ جو جرائم پیشہ ہوتے ہوں یا جرائم پیشہ لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہوں، ان کے بارے میں پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

چوہدری نثارعلی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی غیرقانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کے لیے تمام ممالک خصوصاً برطانیہ کے ساتھ تعاون کرے گا کیونکہ یہ عمل پاکستان کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے، اور جب ایسی کوئی خبر آتی ہے کہ کسی جرم میں کوئی پاکستانی ملوث پایا جائے تو اسے وہ خود بھی اپنے لیے سخت شرمندگی کا باعث سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں افغانستان سے اگلے سال اتحادی فوجوں کی واپسی اور خطے میں برطانیہ کے کردار پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔

اسی بارے میں