’بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا خیر مقدم کریں گے‘

Image caption زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں بہت کم مکانات منہدم ہونے سے بچے ہیں

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے قوم پرست مسلح گروہوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کو تیز رفتاری سے جاری رکھنے کی کوششوں میں تعاون کریں جبکہ دوسری طرف ایک مسلح تنظیم نے متاثرہ علاقوں میں بین الاقوامی امدادی اداروں کا خیر مقدم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لندن سے ہنگامی طور پر پاکستان روانگی سے قبل بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا بلوچستان کا زلزلہ ایک بہت بڑا المیہ ہے اور اس میں تمام سیاست اور اختلافات کو ایک طرف رکھ کر فوری طور پر لوگوں کو امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ دو سو تیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے لیکن انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ زلزلے کی شدت اور علاقے کی پسماندگی کے پیش نظر ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

دریں اثناء بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی امدادی اداروں کا تو خیر مقدم کریں گے لیکن اگر پاکستانی فوج یا پاکستانی سیاست دانوں نے اس موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی تو انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے کہا کہ گزشتہ روز بلوچستان میں زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر بی ایل ایف متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کرتی ہے کہ قدرتی آفت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات و نقصانات کا قوم صبرو تحمل سے مقابلہ کر ئے گی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ عوام نے بین القوامی اداروں اور مخیرلوگوں سے اپیل کی ہے کہ مصیبت کی اس کٹھن گھڑی میں وہ متاثرین کی بھرپور امداد کر کے ان کی بحالی کے عمل میں مدد کریں۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ کو خدشہ ہے کہ پاکستانی فوج اس موقع کو اپنے لاجسٹک مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے وہ امداد کے بہانے آواران، مشکے، ڈنڈار، گیشکور، کولواہ، راگے، پسنی، خضدار کے گرد نواح و دیگر علاقوں میں اسلحہ، فوج کے لیے راشن، نئے فوجی دستے متاثرہ علاقوں میں پہنچانے کی کوشش کرئے گی۔

انھوں نے کہا کہ اسی طرح فوج کی کٹ پتلی معاون پارلیمانی جماعتیں بھی اس موقع کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف انہیں خبردار کرتی ہے کہ اگر امداد کے نام پر فوجی نقل و عمل کی کوشش کی گئی یا وزرا یا پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی تو انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں، غیر سرکاری امدادی اداروں اور ان کے ذریعے بین الاقوامی اداروں کی امدادی سرگرمیوں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے قوم پرستوں کے بارے میں ایک سوال پر کہا کہ جس علاقے میں زلزلہ آیا ہے اس میں ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ بہت سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اللہ نذر کا اپنا آبائی ضلع بھی متاثر ہوا ہے اور ان کو چاہیے کہ وہ امداد کے لیے آنے والوں سے بھرپور تعاون کریں کیونکہ متاثر ہونے والے ان کے اپنے لوگ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر مسلح تنظیموں نے تعاون نہ کیا تو لوگ پہلے زلزلے سے مرے ہیں اور اس کے بعد ’بھوک ‘ اور امداد نہ ملنے سے مریں گے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ اس کٹھن گھڑی میں متاثرہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ امداد پہنچا کر قوم پرستوں سے بہتر تعلقات بنانے کا کوشش کی جائے گی تو انھوں نے کہا کہ وہ معاملات بلکہ الگ ہیں اور ان سے امدادی کارروائیوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ لاشیں کھلے آسمان تلے پڑیں ہیں اور بہت سے لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں سب سے پہلے ان لوگوں کو ملبے سے نکالنے اور لاشوں کو دفنانے کے کام کرنا ہے۔

نقصانات کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ایک بہت دور دراز علاقہ ہے جہاں سے اب تک دو سو تیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا انھیں خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوں گی کیونکہ زلزلے کی شدت بہت زیادہ تھی اور اس علاقے میں تمام کچے گھر ہیں۔

امدادی کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پچیس ایمبولینس کوئٹہ سے روانہ ہو گئی ہیں اور صوبائی اور وفاقی وزراء بھی علاقے میں پہنچے رہے ہیں۔

اسی بارے میں