پشاور: چرچ پر حملے سے ہلاکتیں 84 ہو گئیں

پشاور میں اتوار کے روز کوہاٹی گیٹ چرچ پر دو خود کش حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چوراسی ہو گئی ہے۔

بدھ کو جب چرچ میں صفائی کا کام سر انجام دیا جا رہا تھا تو اس وقت ایک کونے سے بچے کی لاش ملی ہے۔

اس حملے میں چرچ آف سکاٹ لینڈ میں پیرش منسٹر پشاور کے رہائشی آفتاب گوہر کے گھر کے چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سینٹ جانز کیتھڈرل چرچ میں آج شکر گزاری کے دعائیہ تقریب منعقد ہوئی اور پادریوں نے مرنے والوں کے ثواب، زخمیوں کی تندرستی اور ان کے لواحقین کے لیے صبر کی دعائیں کی ہیں۔

آفتاب گوہر پانچ سال پہلے پشاور سے سکاٹ لینڈ چلے گئے تھے اور ان کی والدہ چالیس سال تک سینٹ جانز سکول میں پڑھاتی رہی ہیں جو اس حملے میں خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ہلاک ہوگئی تھیں۔

ریورنڈ آفتاب گوہر نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں ان کی والدہ کے علاوہ بھتیجی، بھتیجا، دو کزنز اور دو رشتہ دار ہلاک ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کیوں یہ حملہ کیا گیا ہے؟

انھوں نے بتایا کہ انہوں نے چھوٹے بچوں کا لاشیں اٹھائی ہیں۔

آفتاب گوہر کے مطابق انہیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ حملہ آوروں نے اس حملے سے کیا حاصل کیا ہے لیکن اس حملے سے صرف پشاور ہی نہیں بلکہ پاکستان اور دنیا بھر کی مسیحوں کو بڑی چوٹ لگی ہے ۔

بدھ کو حملوں کے تسیرے روز مسیحی برادری کے لوگ سینٹ جانز کیتھڈرل چرچ میں اکھٹے ہوئے اور اس موقع پر لوگ دعائیہ نظمیں اور بائبل کے اقتباسات پیش کرتے رہے۔

اس سے پہلے آل سینٹس چرچ آف پاکستان میں جہاں اتوار کے روز دو خود کش دھماکے ہوئے تھے صفائی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔ چرچ میں دھماکے کی وجہ سے ہر طرف خون، خون آلود جوتے کپڑے اور دیگر سامان بکھرا پڑا تھا۔

مسیحی برادری کے لوگ ٹولیوں کی صورت میں آکر دعائیں کرتے ہیں ۔ چرچ میں ایک جانب پھول رکھے گئے تھے اور شمعیں روشن کی گئی تھیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آج لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ انھوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ چوتھی آل پارٹیز کانفرنس نے بھی مذاکرات کی فیصلہ کیا ہے لیکن اس بارے میں پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں جانب سے جنگ بندی ہونی چاہیے اور جیسے امریکہ نے افغان طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دی ہے اسی طرح پاکستان کو بھی پیشکش کرنی چاہیے تاکہ ایک ماحول بنے اور اگر پھر اس کے بعد بھی کوئی دھماکہ یا حملہ ہوتا ہے تو باز پرس کی جا سکتی ہے۔

عمران خان کی جانب سے طالبان کے لیے دفتر کھولے جانے کی تجویز پر پاکستان میں سوشل میڈیا پر سارا دن پی ٹی آئی اور عمران خان پر شدید تنقید کی گئی۔

اس حوالے سے پاکستان میں ٹوئٹر ہیش ٹیگ LetsHaveAmanKiAshaWithTalibanToo ٹرینڈ کرتا رہا جس میں بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کے لیے شروع کی گئی ایک مہم کو استعارتاً استعمال کیا گیا تھا۔

تاہم اسے استعمال کرنے والے صرف ناقدین ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے کارکن بھی تھے جنہوں نے اسے استعمال کیا۔

چرچ حملے کے بعد سے کوہاٹی گیٹ کے علاقے میں فضا اب تک سوگور ہے اور پولیس نے تحقیقات شروع تو کی ہیں لیکن اب تک کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے کہ یہ کارروائی کس نے کی ہے۔

اسی بارے میں