مکران میں جزائر کیسے نمودار ہوتے ہیں؟

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منگل کو زلزلے کے بعد ساحلی پٹی میں مزید دو جزائر کے نمودار ہونے کی اطلاعات ملی ہیں اور متعلقہ حکام نے اس کی تصدیق کے لیے ماہرین کی ٹیم روانہ کر دی ہے۔

پاکستان میں سمندری علوم کے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشِناگرافی کے ڈائریکٹر جنرل اے آر تبریز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مکران کے علاقے میں زلزلے کا سبب بننے والی زمین کی سطح کے نیچے غیر یکساں تہیں یعنی ٹیکٹونک پلیٹس متحرک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مکران کی ساحلی پٹی میں سمندر کی تہہ میں بہت سے ارضیاتی رخنے (جیولاجیک فالٹس) ہیں اور یہاں اگر زلزلہ آتا ہے تو جزائر نمودار ہو سکتے ہیں اور زلزلہ نہ بھی آئے اور سائزمِک سرگرمیاں ہوں تو اس صورت میں بھی جزائر نمودار ہو سکتے ہیں۔

اس وجہ سے 1945، 1999 میں اور 2010 میں اس طرح کے جزائر نمودار ہوئے تھے۔

ڈاکٹر تبریز نے جزائر کے نمودار ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فالٹ لائن پر واقع کچھ حصے کمزور ہو جاتے ہیں اور یہاں موجود میتھین گیس کے ذخائر کو اوپر جانے کا راستہ مل جاتا ہے تاکہ پریشر کو خارج کیا جائے اور اس صورت میں جزائر نمودار ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکٹونک پلیٹس جہاں متحرک ہوتی ہیں، وہاں اس قسم کے جزائر کا نمودار ہونا معمول کا واقعہ ہے اور بارباڈوس اور بہاماز سمیت دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں بھی اس قسم کے جزائر نمودار ہوئے ہیں جس کی ساحلی پٹی میں کاربن ہائیڈریٹ موجود ہیں۔

ان جزائر کی زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر اے آر تبریز نے بتایا کہ 1999 اور 2010 کو معرضِ وجود میں آنے والے جزیرے چار سے چھ ماہ کے عرصے میں غائب ہو گئے تھے کیونکہ یہ جزائر دباؤ کے نتیجے میں اوپر آتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ دباؤ میں کمی آتی ہے اور جزیروں پر موجود مواد نیچے کی جانب سرکنا شروع ہو جاتا ہے۔

اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ سمندر کی لہروں کے مسلسل عمل کی وجہ سے ان پر موجود مواد نرم ہوتا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد بظاہر ٹھوس نظر آنے والا جزیرہ گھلتا چلا جاتا ہے اور رفتہ رفتہ سمندر کے اندر غائب ہو جاتا ہے۔

مکران ڈویژن میں واقع گودار بندرگاہ کا کنٹرول چین کی ایک کمپنی نے سنبھال لیا ہے اور مستقبل میں یہاں بحری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ کیا اس قسم کے جزائر سے بحری گزرہ گاہ کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے؟

اس سوال پر اے آر تبریز نے بتایا کہ یقیناً اگر اس طرح کے جزائز متواتر نمودار ہوتے ہیں تو اس سے بحری سرگرمیوں اور ماہی گیروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن ابھی تک کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ جزائر کے نموادر ہونے کے واقعات شاذ و نادر ہیں، جیسا کہ گذشتہ پندرہ سال میں منگل کو نظر آنے والا یہ تیسرا جزیرہ ہے۔

پاکستان کو خاصے عرصے سے توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ اس علاقے میں موجود میتھین گیس کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں ڈاکٹر اے آر تبریز نے کہا کہ یہ ذخائر منجمد حالت میں ہیں اور ابھی ایسی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جس کی مدد سے ان ذخائر کو نکال جا سکے لیکن امریکہ اور جاپان اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ دو تین سال میں یہ ٹیکنالوجی مارکیٹ میں آ جائے گی۔

اسی بارے میں