کیا ملا برادر کی رہائی محض علامتی تھی؟

Image caption ملا برادر کو سال دو ہزار دس میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا

پاکستان کے دفتر خارجہ نے گذشتہ ہفتے پاکستان میں قید افغان طالبان کے ایک اہم رہنما ملا برادر کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا مگر کراچی میں ان کے خاندان کے ذرائع کے مطابق وہ ابھی تک اپنے گھر نہیں پہنچے۔

واضح رہے کہ ملا برادر کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان کے دفترِخارجہ نے کہا تھا کہ انہیں افغان مصالحتی عمل میں آسانی پیدا کرنے کے لیے رہا کیا گیا ہے۔

اب یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ ملا برادر کو ترکی منتقل کر دیا جائے جب کہ پاکستان چاہتا ہے کہ انہیں قطر یا سعودی عرب منتقل کیا جائے۔

ملا برادر کو رہا کر دیا گیا: دفتر خارجہ

ان اختلافات پر وزارتِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری سے موقف جاننے کی متعدد بار کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ملی۔

دوسری جانب وزارتِ داخلہ کے ترجمان عمر حمید سے جب پوچھا کہ ملا برادر کو پاکستان میں ہی رہا کیا گیا ہے تو ابھی تک اپنے گھر کیوں نہیں پہنچے ہیں تو اس پر ان کا کہنا تھا: ’یہ معاملہ اب بھی وزارتِ خارجہ کے پاس ہے اس لیے ان کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔‘

پاکستان کے بقول ملا برادر کی رہائی کا مقصد افغان مصالحتی عمل میں آسانی پیدا کرنا ہے۔

افغان سینیٹ کے ایک وفد نے بدھ کو اسلام آباد کے دورے کے موقعے پر منعقدہ ایک سیمینار میں وفد کے سربراہ افغان سینیٹ کے سیکرٹری سید فرخ شاہ فریابی جناب نے کہا تھا کہ ملا برادر کی رہائی کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک وہ افغان مصالحتی عمل میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔

اس وفد کی میزبانی کرنے والے غیر سرکاری ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ وفد میں شامل رہنماؤں کا موقف تھا کہ ’ملا برادر کو کسی’’سیف ہاؤس‘‘ میں رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور انہیں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں تعاون کرنا ہو گا۔‘

ملا برادر کی رہائی، کسی تیسرے ملک منتقل کرنے اور مصالحتی عمل میں ان کے کردار پر بات کرتے ہوئے افغان امور کے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ’ملا برادر کی رہائی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن انہیں پوری طرح سے رہا نہیں کیا گیا ہے اور وہ صحیح معنوں میں آزاد نہیں ہیں۔‘

’ملا برادر کے مستقبل کے بارے میں اختلافات شروع سے تھے اور اس وجہ سے ان کی رہائی میں تاخیر ہوئی۔ اس ضمن میں پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے اپنے اپنے موقف ہیں۔ امریکہ چاہتا تھا کہ ان کو اس طرح سے رہا نہ کیا جائے بلکہ پہلے نگرانی کا ایک نظام بنایا جائے اور اب لگتا ہے کہ ایسا ہی کیا جا رہا ہے کہ ملا برادر کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔‘

ملا برادر افغان مصالحتی عمل میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں، اس پر رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ’ اگر ملا برادر کی مرضی نہیں ہے تو کیسے زور سے ان سے کام کرائیں گے۔ افغان حکومت کہتی ہے کہ یہ فائدہ مند ہوں گے اور ان کو کسی دوسرے ملک بھیج دیں۔‘

فروری 2010 میں پاکستانی فوج نے ملا برادر کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی جبکہ اس وقت وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ طالبان رہنما کو دس دن پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت سے افغان حکومت متعدد بار ملا برادر کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔

اسی بارے میں