ہلاکتیں 400، زلزلہ زدگان تاحال امداد کے منتظر

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 400 ہو گئی ہے جب کہ اس قدرتی آفت کے تین دن بعد بھی متاثرین تک مناسب امداد نہیں پہنچ پائی ہے۔

ادھر حکومت نے بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں نہ کریں کیونکہ اس سے امدادی آپریشن متاثر ہو رہا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں سرکار لاپتا ہے

آگے اپنے رسک پر جاؤ۔۔۔

’عالمی امدادی اداروں کا خیرمقدم کریں گے‘

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ریاستی اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے جمعہ کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب یہ تعداد چار سو تک پہنچ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کی شام تک زلزلے سے متاثر ہونے والے تمام افراد تک رسائی ہو جائے گی اور انہیں کھانے پینے کا سامان اور ادویات پہنچا دی جائیں گی۔

عبدالقادر بلوچ نے بتایا کہ امدادی کاموں کی مکمل نگرانی فوج کر رہی ہے اور امدادی اشیاء کی فراہمی کے لیے کراچی کو ’بیس‘ بنایا گیا ہے۔

بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق زلزلے سے 620 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور تقریباً 21 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

منگل کی شام آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے سے آواران اور کیچ کے اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق جمعرات کی شام تک ضلع آواران میں 311 ہلاکتوں اور 440 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی جبکہ کیچ میں ہلاکتوں کی تعداد 46 ہے جبکہ وہاں 180 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک متاثرہ علاقے میں نو ہزار ٹینٹ، پانچ ہزار سے زیادہ کمبل، 12 ہزار سے زیادہ خوراک کے پیکٹ اور پانی کی 3900 بوتلیں پہنچائی گئی ہیں۔

تاہم آواران میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بیشتر متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکی ہیں اور زلزلہ زدگان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق آواران شہر اور اس کے قریب مشکے کے علاقے میں قریباً تمام مکانات ہی ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے کے مکینوں کا سارا مال و اسباب اسی ڈھیر میں دفن ہے اور وہ اب امداد کے منتظر ہیں۔

امدادی کارروائیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ آواران اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے تین دن بعد بھی متاثرین کو ٹھہرانے کے لیے کسی قسم کا انتظام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ نہ تو متاثرین کے لیے کوئی خیمہ بستی قائم کی گئی ہے اور نہ ہی انہیں انفرادی طور پر سر چھپانے کے لیے کوئی ذریعہ فراہم کیا جا سکا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عموماً زلزلے جیسی قدرتی آفت کے بعد مقامی سکول اور اس جیسی دیگر سرکاری عمارتیں متاثرین کا مسکن بنتی ہیں لیکن آواران میں یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ اول تو کوئی عمارت کھڑی ہی نہیں رہ سکی اور جو بچی ہیں ان میں اتنی دراڑیں پڑی ہوئی ہیں کہ وہاں کسی کو ٹھہرانا خطرے سے خالی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آواران شہر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی اور قومی اداروں کی گاڑیاں تو نظر آئیں لیکن ان پر لدا سامان کہاں جا رہے یہ پتا نہیں چل رہا کیونکہ متاثرین تو بے سروسامانی کی حالت میں پڑے ہیں۔

ریاض سہیل کے مطابق حکومتی اداروں کے برعکس کچھ فلاحی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں جن میں فلاحِ انسانیت اور ایدھی فاؤنڈیشن قابلِ ذکر ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ انفرادی طور پر بھی سامان لائے ہیں لیکن سکیورٹی خدشات کی وجہ سے انہیں متاثرہ علاقے میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ علاقے میں تعینات سکیورٹی ادارے چاہتے ہیں امدادی سامان کی ترسیل ان کے ذریعے کی جائے جس پر امدادی تنظیمیں تیار نہیں اور یہ بھی امداد کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ بن رہی ہے۔

آواران میں ہی موجود نامہ نگار صبا اعتزاز کا کہنا ہے کہ متاثرین میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی ہے جو شدیدگرم موسم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خیمے تو دور کی بات ان کے پاس کپڑے کا ایسے ٹکڑے بھی نہیں جنہیں سر پر تان کر وہ دھوپ کی تپش سے بچ سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرین کے پاس نہ راشن ہے اور علاقے میں پینے کے پانی کی بھی شدید قلت ہے۔ نامہ نگار کے مطابق آواران کے ہسپتال میں متاثرہ خواتین کے لیے صرف ایک خاتون ڈاکٹر موجود ہے اور خواتین کے مسائل کے حل اور ان کے علاج میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں زلزلے سے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے جمعرات کو اعتراف کیا تھا کہ زلزلے کے 48 گھنٹے بعد بھی امدادی ٹیمیں کچھ متاثرہ علاقوں میں نہیں پہنچ سکیں۔

اسی بارے میں