آگے اپنے رسک پر جاؤ

Image caption لوگ اور بچے کھلے آسمان کے نیچے یا درختوں کے سائے میں بیٹھے دکھائی دیے

کراچی سے آرسی ڈی شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے جب آواران کی طرف گاڑی نے موڑ کاٹا تو بیلہ چوک پر ایف سی کے ناکے نے استقبال کیا، جہاں سر پر رومال باندھے ہوئے کمانڈو سٹائل افسر نے مشورہ دیا کہ آپ بغیر قافلے کے آگے نہیں جا سکتے۔

آس پاس زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان کے بینر لگے ہوئے کچھ ٹرک بھی موجود تھے جن میں سے بعض میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ آرسی کے چند خیمے موجود تھے جو شاید سیلاب کے دنوں میں آنے والی امداد سے مشکل وقت کے لیے بچا کر رکھے گئے تھے۔

زلزلہ زدگان تین دن بعد بھی امداد کے منتظر

متاثرینِ زلزلہ کی مشکلات: تصاویر

ہمارے ساتھ موجود غیر سرکاری تنظیم کے کارکنوں نے یہ کہہ کر ایف سی کے قافلے میں چلنے سے انکار کردیا کہ ان کی موجودگی سکیورٹی نہیں بلکہ سکیورٹی رسک ہو گی کیونکہ وہ خود بلوچ علیحدگی پسندوں کے نشانے پر ہیں۔

اسی بحث مباحثے کے دوران میڈیا نے کیمرے آن کر دیے اور ایف سی کے افسر نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑائی کی کہ ’آپ اپنے رسک پر جائیں۔‘

راستے میں سلیٹی اور سرخی مائل سنگلاخ پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سڑک کئی برساتی نالوں اور ندیوں سے گزرتی رہی لیکن وہاں جیسے زمین کھسک گئی تھی اور صرف کچا راستہ رہ گیا تھا۔

بیلہ چوک سے آواران تک چار گھنٹے کے سفر کے بعد ہمارا پہلا سٹاپ سرکاری ہپستال تھا، جہاں ایک نجی گاڑی میں ایک خاتون کو مشکے سے لایا گیا تھا۔ خاتون کا شوہر لیویز میں ملازم تھا اور اسے اس سفر کے لیے آٹھ ہزار روپے کرایہ دینا پڑا۔ زخمی خاتون کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی تھی اور وہ مسلسل چلّا رہی تھیں۔

ضلعی ہیڈکوارٹر ہپستال میں ایکسرے ، لیبارٹری کی کوئی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ کچھ دردکش ادویات اور مرہم پٹی کا کچھ سامان بکھرا ہوا نظر آیا جب کہ جراحی کے کچھ آلات بھی اس کے برابر میں ہی موجود تھے۔

Image caption خواتین جن کے پاس پکانے کے لیے کچھ نہ تھا

یہیں دوپہر کے وقت خواتین اور بچوں کو چاول فراہم کیے جا رہے تھے اور ایف سی کے جوان ’صورتحال کو قابو‘ میں رکھنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔

ہپستال میں معلوم ہوا کہ آواران کے قریبی علاقوں میں ابھی تک لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔ اس پر ہم تقریباً دس کلومیٹر دو ترتیج گاؤں پہنچے جہاں بیس افراد ہلاک ہوئے تھے اور ہماری آمد سے قبل ایک دس سالہ بچی کی لاش نکالی گئی جسے نکالنے کے لیے ملبہ ہٹانے کو ٹریکٹر کی مدد حاصل کی گئی تھی۔

یہ پورا گاؤں ہی ملبے کا ڈھیر نظر آیا۔ دو ہزار کی آبادی کے اس گاؤں کے بازار میں بھی تباہ شدہ دکانوں میں کھانے پینے کی اشیا دب چکی تھیں۔ پورے علاقے میں ایک ہی پکی عمارت نظر آئی جو ہائی سکول تھا لیکن اس میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

روایتی طور پر قدرتی آفات کے بعد لوگوں کو سرکاری عمارتوں میں ٹھہرایا جاتا ہے لیکن متاثرہ علاقوں میں ایسی کوئی سرکاری عمارت اس حالت میں نہیں کہ اسے استعمال کیا جا سکے۔

ترتیج گاؤں میں کہیں بھی ریسکیو اور ریلیف کی کوئی کارروائی نظر نہیں آئی۔ لوگ اور بچے کھلے آسمان کے نیچے یا درختوں کے سائے میں بیٹھے دکھائی دیے۔

Image caption پورا گاؤں ہی ملبے کا ڈھیر نظر آیا

بلوچستان حکومت اور این ڈی ایم اے کے بیانات تو دو روز سے سامنے آ رہے تھے لیکن ان کی عملی شکل دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہی رہیں۔

ترتیج سے 30 کلومیٹر دور مالار میں زیادہ ہلاکتوں کا پتہ چلا تو خیال آیا شاید حکومت نے وہاں ریلیف کا آغاز کیا ہوگا۔ ٹوٹی پھوٹی سڑک پر سات کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کے دوران ویرانے میں ایف سی کی کئی گاڑیاں سامنے آئیں جب کہ کچھ اہلکار سڑک کے کنارے پر بھی تعینات تھے جنہوں نے کہیں کہیں روک کر سوال کیے لیکن آگے جانے کی اجازت دے دی۔

ملاہار جب پہنچے تو سورج غروب ہونے کے نزدیک تھا۔ ایک سکول کی عمارت پر ’آزاد‘ بلوچستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ اس عمارت کے علاوہ صرف مسجد پکی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی اور گاؤں کے 90 فیصد کچے مکانات مٹی کا ٹیلہ بن چکے تھے۔

ہماری آمد پر مقامی لوگ سمجھے کہ شاید کوئی مدد کے لیے آیا ہے لیکن انہیں یہ سن کر ضرور مایوسی ہوئی ہوگی کہ ہم میڈیا سے وابستہ ہیں۔

امدادی کارروائیوں کا آغاز یہاں بھی نہیں ہو سکا تھا اور یہاں بھی وہی پریشانیاں، مشکلات اور گرد آلود چہرے والے بچوں اور دور بیٹھی ہوئی خواتین جن کے پاس کھانے پکانے کے لیے کچھ نہ تھا۔

اسی بارے میں