’ڈرون حملے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں‘

Image caption ’دہشت گردی کے خلاف جنگ بین الاقوامی قوانین کے تحت لڑی جانی چاہیے‘

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور امریکہ یہ حملے بند کرے تاکہ مزید شہریوں کی ہلاکت نہ ہو۔

نیو یارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب میں انہوں نے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کے بارے میں کہا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بین الاقوامی قوانین کے تحت لڑی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے سود مند سے نقصان دہ ہیں کیونکہ ان حملوں میں شہریوں کی ہلاکت بھی ہوتی ہے۔

پاکستان میں جاری دہشت گردی کے بارے میں انہوں نے کہا ’میں نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں کُل جماعتی کانفرنس بھی ہوئی۔ اس کانفرنس میں متفقہ طور پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن مذاکرات کو کمزوری یا خوش کرنے کا طریقہ نہ سمجھا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی شکل میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ’خود گذشتہ کئی برس سے دہشت گردی کا بری طرح شکار ہیں۔ ہم نے اس میں بچوں اور خواتین سمیت چالیس ہزار جانوں کی قربانی دی ہے اور ہمارے آٹھ ہزار فوجی اس میں شہید ہوئے ہیں۔‘

بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے قیمتی وسائل اسلحے کی جنگ میں ضائع کردیے ہیں جبکہ یہی وسائل لوگوں کی معاشی ابتری کے لیے استعمال کیے جاسکتے تھے۔

’ابھی بھی موقع ہے۔ دونوں ممالک اکٹھے ترقی کرسکتے ہیں اور ہماری ترقی سے پورا خطہ مستفید ہو گا۔‘

نواز شریف نے کہا ’ہم بھارت کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کےلیے تیار ہیں تاکہ بامعنی مذاکرات کیے جاسکیں۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ ’نئی ابتدا‘ کے لیے تیار ہیں اور 1999 کے لاہور معاہدے کو بنیاد بناتے ہوئے آگے بڑھا جاسکتا ہے۔

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات کرنا چاہییں۔

’پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے، 1948 میں مسئلہ کشمیر کی قرارداد اقوام متحدہ ميں پیش کی گئی لیکن سات دہائیاں گزرنے کے باجود اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔‘

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغان امن کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں اور افغان امن کے لیے ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جس کی قیادت افغانستان کرے۔

’پاکستان کا نہ تو افغانستان میں کوئی پسندیدہ ہے اور نہ ہی وہاں کے اندرونی معاملات میں کوئی دلچسپی رکھتا ہے جب کہ افغانستان کے ساتھ مل کر تجارت اور توانائی کے معاملات میں کام کرناچاہتا ہے۔‘

وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا مخالف ہے اور شام میں ان کے استعمال کی مذمت کرتا ہے۔

’ہم امریکا اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو غیرمستقل رکن کا درجہ ملنا خوش آئند ہے اور پاکستان امید کرتا ہے کہ فلسطین کو جلد مستقل رکن کا درجہ بھی دے دیا جائے گا۔

اسی بارے میں