مذاکرات کی شرط؟ ’طالبان کو ہتھیار پھینکنے ہونگے‘

Image caption یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے کچھ ’شرائط‘ سامنے آئی ہیں

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ امن مذاکرات کے لیے طالبان کو ہتھیار ڈال کر تشدد کی راہ ترک کرنا ہوگی اور ملک کے آئین کو تسلیم کرنا ہوگا۔

نواز شریف آج کل اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی شہر نیویارک میں ہیں۔

حکومت اور طالبان سے مذاکرات کا مستقبل

جمعرات کو امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ طالبان کو یہ حکومتی ’شرائط‘ ماننا ہوں گی تاہم انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ امریکی ڈرون حملے جاری رہنے سے طالبان کے ساتھ بات چیت کی پالیسی پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ حکومت یہ واضح کر چکی ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں قابلِ قبول نہیں اور طالبان کو دہشت گردی ترک کرتے ہوئے حکومت سے بات چیت پر آمادگی کا اظہار کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ان کے جواب کے منتظر ہیں کہ وہ اس ضمن میں کیا کہتے ہیں۔ وہ خود بھی مذاکرات کی بات کر چکے ہیں۔‘

انہوں نے پشاور میں گرجا گھر پر حملے کو امن عمل کے لیے دھچکا قرار دیا۔ ’یہ بڑا دھچکا ہے لیکن پھر انہوں (طالبان) نے اس سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ اب ہم حقائق جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی طالبان کو ملک کے آئین کی پاسداری کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک کے آئین کو نہیں مانتے لیکن آئین کی پاسداری لازمی ہے۔‘

نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ ’اگر ہم دہشت گردی سے نمٹنے پر اتفاق کرتے ہیں تو انہیں ہتھیار بھی ڈالنے ہوں گے۔‘

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے کچھ ’شرائط‘ سامنے آئی ہیں۔

ڈرون حملوں پر بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں امریکہ سے بات ہو چکی ہے: ’یہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے فائدے کی بجائے نقصان ہو رہا ہے۔ جتنے زیادہ ڈرون حملے ہوں گے، اتنے زیادہ دہشت گرد پیدا ہوں گے۔۔۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے لیے بالکل مددگار ثابت نہیں ہو رہی۔‘

نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ ڈرون حملوں سے امن مذاکرات کی پالیسی پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بات چیت شروع ہوتی ہے تو پھر تو ان سے مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں اور ان حملوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ادھر امریکی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم نے جمعرات کو امریکی وزیرِ خارجہ سے ملاقات میں واضح کیا ہے کہ اس وقت جبکہ حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش مند ہے، تو ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سمجھتی ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے شدید کارروائی کی جائے گی۔

امریکی دفترِ خارجہ کے اہل کاروں نے نواز کیری ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ’وہ اس کے متبادل راستے کی جانب بھی دیکھ رہے ہیں کہ اگر یہ بات چیت ناکام رہتی ہے، تو بڑا آپریشن کیا جاسکے اور اس طرح کی کارروائی پھر صرف تحریک طالبان تک محدود نہیں رہے گی، اس لیے کہ تحریک طالبان پاکستان ان علاقوں میں اور بہت سے دہشت گرد گروہوں کی رہنمائی کر رہی ہے۔‘

اسی بارے میں