’ابھی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی ہے‘

Image caption عمر خراسانی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے بھی ان کے قیدیوں اور ساتھیوں پر تشدد اور ان کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی ہے اور مذاکرات کی آمادگی میں پہل کو ان کی کمزوری کے طور پر نہ لیا جائے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے سربراہ عمر خالد خراسانی نے یہ بات بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

ایک جانب مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرنے اور دوسری جانب حملے جاری رکھنے کے معاملے پر عمر خراسانی نے کہا کہ ’ابھی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی ہے۔‘

انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ حکومت نے بھی ان کے قیدیوں اور ساتھیوں پر تشدد اور ان کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اس بابت انہوں نے کراچی میں اپنے تین ساتھیوں کی گزشتہ دنوں ہلاکت اور جیل میں قیدیوں پر تشدد کا حوالہ دیا۔

عمر خراسانی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی آمادگی میں پہل کو ان کی کمزوری کے طور پر نہ لیا جائے۔

ان کے خیال میں موجودہ حالات میں کوئی بھی مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امن مذاکرات کے لیے طالبان کو ہتھیار ڈال کر تشدد کی راہ ترک کرنا ہوگی اور ملک کے آئین کو تسلیم کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم نے انٹرویو میں کہا تھا کہ طالبان کو یہ حکومتی ’شرائط‘ ماننا ہوں گی۔ تاہم انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ امریکی ڈرون حملے جاری رہنے سے طالبان کے ساتھ بات چیت کی پالیسی پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ حکومت یہ واضح کر چکی ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں قابلِ قبول نہیں اور طالبان کو دہشت گردی ترک کرتے ہوئے حکومت سے بات چیت پر آمادگی کا اظہار کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا تھا کہ اگر حکومت قبائلی علاقوں میں تعینات فوجیوں کو واپس بلا لے اور ان کے ساتھیوں کو رہا کر دے تو طالبان کو مذاکرات کے لیے اس کے اختیار اور نیت پر یقین آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی حکومت قیامِ امن کے لیے کسی قسم کے مذاکرات سے قبل اپنے بااختیار اور مخلص ہونے کا ثبوت دے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ حکومت کے پاس دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک سے زائد راستے موجود ہیں ’مگر دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس میں مزید معصوم انسانی جانیں ضائع نہ ہوں‘۔

شدت پسندی کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’میں ہر پاکستانی کی طرح آگ اور خون کے اس کھیل کا جلد سے جلد خاتمہ چاہتا ہوں، چاہے یہ خاتمہ افہام و تفہیم کی میز پر بیٹھ کر ہو یا پھر بھرپور ریاستی قوت کے استعمال سے ہو، اور پاکستان کے تمام ادارے کسی تقسیم اور تفریق کے بغیر اس قومی مقصد پر یکسو ہیں‘۔

اسی بارے میں