متاثرہ علاقے میں ایک اور زلزلہ، مشکے میں تباہی

Image caption ڈاکٹر محمد طاہر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے شامل ہیں

پاکستان میں منگل کو آنے والے زلزلے سے متاثرہ صوبے بلوچستان میں سنیچر کی دوپہر ایک اور شدید زلزلہ آیا ہے جس میں حکام کے مطابق مشکے کے نواہی علاقے نوک جو میں سولہ افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔

مشکے کے اسسٹنٹ کمشنر شفقت انور نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں نوک جو میں زیادہ تباہی ہوئی ہے جہاں سولہ افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں کیونکہ امدادی ٹیمیں علاقے میں تاحال نہیں پہنچ سکی ہیں۔

آواران میں متاثرین نے امدادی ٹرک لوٹ لیے

فلاحی تنظیمیں خاموش کیوں ہیں:آڈیو

اس سے پہلے چوبیس ستمبر کو بلوچستان میں سات اعشاریہ سات شدت کے زلزلے نے آواران اور کیچ کے اضلاع میں شدید تباہی مچائی تھی اور اس کے نتیجے میں اب تک چار سو کے قریب ہلاکتوں اور چھ سو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

دوسری جانب مشکے ہسپتال کے سینیئر ڈاکٹر محمد طاہر نے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے نوک میں بیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ڈاکٹر محمد طاہر نے نوک جو کے دورے سے واپسی پر کہا کہ وہاں پہلے آئے زلزلے سے کافی نقصان ہوا تھا لیکن سنیچر کو آنے والے زلزلے نے اس علاقے کو ملیا میٹ کر دیا۔انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے شامل ہیں جبکہ زلزلے سے متعدد افراد زخمی بھی ہو گئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق نوک جو سے مشکے آئے ہوئے زخمی افراد طبی امداد کے بعد جب واپس جانے لگے تو انھیں ایف سی نے جانے سے روکا دیا اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی۔

علاوہ ازیں نوک جو جانے والے تقریباً پندرہ پک اپ کے ڈرائیوروں نے بتایا کہ وہ زخمیوں کو نکالنے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے جانا چاہتے تھے لیکن انھیں بھی ایف سی نے جانے نہیں دیا۔

مشکے میں محکمۂ صحت کے امدادی کیمپ کے سربراہ ڈاکٹر قاسم کے مطابق ادویات اور خیموں کی شدید کمی ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے مطابق زلزلہ بارہ بج کر چونتیس منٹ پر آیا اور ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت سات اعشاریہ دو ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی ارضیاتی سروے نے اس کی شدت چھ اعشاریہ آٹھ بتائی ہے۔

پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے سینیئر اہلکار ڈاکٹر محمد حنیف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ زلزلے کا مرکز آواران کے جنوب میں خضدار کا علاقہ تھا اور یہ چھیالیس کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ گزشتہ منگل کو آنے والے زلزلے کا آفٹر شاک نہیں بلکہ خود ایک شدید زلزلہ تھا۔

آواران شہر میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار صبا اعتزاز کے مطابق ضلع کے ایڈیشنل ڈی سی او کے مطابق مشکے کے گاؤں نوک جو میں اس زلزلے سے بیشتر مکانات گر گئے ہیں۔

اس سے قبل ضلع آواران کے ڈپٹی کمشنر رشید بلوچ نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ مشکے میں پہلے سے ہی امدادی کارروائیاں جاری تھیں اور اب متاثرہ علاقوں میں مزید امداد بھیجی جا رہی ہے۔

رشید بلوچ کا یہ بھی کہنا تھا کہ زلزلے سے مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے جس سے متاثرہ علاقے سے معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق مشکے کے برعکس ضلعی ہیڈکوارٹر میں اس زلزلے کی شدت اتنی زیادہ نہیں تھی تاہم لوگ جھٹکے شروع ہوتے ہی خوفزدہ ہو کر باہر کھلے مقامات پر نکل آئے۔

چوبیس ستمبر کو بلوچستان میں سات اعشاریہ سات شدت کے زلزلے نے آواران اور کیچ کے اضلاع میں شدید تباہی مچائی تھی اور اس کے نتیجے میں اب تک چار سو کے قریب ہلاکتوں اور چھ سو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے مطابق سنیچر کو آنے والے زلزلے کے جھٹکے بلوچستان کے تمام علاقوں کے علاوہ کراچی سمیت صوبہ سندھ کے بیشتر حصے میں محسوس کیے گئے۔

اس کے علاوہ زلزلے کا اثر سلطنتِ اومان اور ایران کے جنوبی علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔

اسی بارے میں