’امدادی کارروائیاں روکنا انسانیت کے خلاف جرم ہے‘

Image caption ’حالیہ 7.7 شدت کے زلزلے کے بلوچستان کے سماجی و معاشی حالات پر تباہ کن اثرات ہونگے‘

سانحے پہ سانحہ ، شورش زدہ غربت میں گھرا بلوچستان پاکستان کا دارفور ہے جہاں حال ہی میں اور مصیبت آن پڑی۔ ریکٹر سکیل پر 7.7 شدت کے زلزلے نے نہ صرف پورے کے پورے قصبوں اور دیہاتوں کو تباہ کر دیا بلکہ اس سے بلوچوں کے سمندر میں ایک جزیرہ بھی بن گیا۔

میڈیا، عوام ، ماہرین اور جیالوجسٹ نئے جزیرے میں بڑی دلچسپی لے رہے ہیں۔ یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ شاید نئے جزیرے میں تیل اور گیس کے زخیرے ہوں گے۔

تاہم دوسری طرف زلزلے سے متاثرہ بلوچستان کے دور دراز علاقے آواران میں خواتین، بچے اور عمر رسیدہ افراد کو نہ صرف کم توجہ دی گئی بلکہ حکومت نے بین الاقوامی توجہ سے بچنے کے لیے، اپنے طاقت کے بل بوتے پر اس بحران کو کم ظاہر کیا اور اس سے متعلق اہم حقائق اور معلومات کو دبایا۔

اپنے عوام کا خیال رکھنے والی حکومتیں اور ان کے ادارے آفات کی صورت میں عوام اور خیراتی اداروں کی توجہ اور دوبارہ بحالی کے لیے بیرونِ امداد کرنے کے لیے اعداد وشمار کو بڑھا چڑھا کر اور بعض اوقات توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔

بلوچستان کے معاملے میں اسلام آباد کی اچھی طرح تیار کردہ شٹ ڈاؤن یا بند رکھنے کی ایک منظم پالیسی ہے، کوئی معلومات نہیں، کوئی رسائی نہیں، کوئی بیرونی امداد نہیں، کوئی غیرملکی امدادی کارکن نہیں یہ دنیا کے ایک غریب ترین خطے اور سیاسی طور دبائے گئے معاشی پسماندگی کے شکار لوگوں کے بارے میں باہر دنیا کو بے خبر رکھنے کی ایک بڑی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

اسلام آباد کی حمایت یافتہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کی جانب سے بار بار بین الاقوامی امداد کی اپیل کے باوجود قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ نے جو ایک طاقتور میجر جنرل ہیں متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور نقصان کے بارے میں بریفنگ سے پہلے ہی بین الاقوامی امداد سے انکار کیا۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں، بین الاقوامی خیراتی اداروں اور بعض ممالک کی طرف سے امداد کی پیشکش کے باوجود این ڈی ایم اے کے سربراہ بچاؤ اور امداد کی کارروائیاں کرنے کے لیے ’اپنے وسائل‘ استعمال کرنے پر بار بار زور دیتے رہے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز دوبارہ بحالی کے لمبے عرصے کے کسی منصوبہ بندی کے بغیر امدادی کارروائیوں کو کنٹرول اور منظم کر رہے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ سنہ 2005 میں 7.6 شدت کے زلزلے میں جس کا مرکز کشمیر تھا 73,000 افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے تو بلوچستان میں 7.7 شدت کے زلزلے میں صرف اور صرف 350 افراد کیسے ہلاک ہوئے۔

اسلام آباد کا بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ یہ برتاؤ بلوچ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں عرصے سے ہے جو بلوچستان کے معاملات کو ہر پہلو سے متاثر کر رہے ہیں جس میں سیاسی، سماجی، معاشی ترقی اور اب کی یہ تباہی شامل ہے۔

بلوچستان کو ایک ایسا مفلوج علاقہ ظاہر کرنے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے جہاں جاہل، بدعنوان، سست و کاہل اور غیر مؤثر قبائلی سردار ہیں۔ یہ سوچ اسلام آباد کو بلوچستان میں اپنا سامراجی حکومت قائم و دائم رکھنے میں مدد دیتا ہے اور اس سے وہ بلوچستان میں حکمرانی کے ہر پہلو یعنی سکیورٹی، قدرتی وسائل، سرحدیں، ساحل اور حتکہ آفات کو بھی صفائی کے ساتھ سنبھالے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی یو این ہابیٹاٹ نے سنہ دو ہزار دس میں آئے سیلاب سے نقصان اور اس سے نمٹنے کے طریقۂ کار کا تجزیہ کرتے ہوئے واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ بلوچستان کی حکومت کے پاس دوسرے صوبوں کے مقابلے میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بہت کم وسائل ہیں۔بڑے پیمانے پر تباہی کی وجہ سے لوگوں کے مدد کے لیے ایک بہت بڑے امدادی کارروائی کی ضرورت تھی۔

تاہم سنہ 2010 میں ان تلخ حقائق اور امداد کی مخلصانہ پیشکش کے باوجود این ڈی ایم اے نے بین الاقوامی امدادی اداروں اور امدادی تنظیموں کو بلوچستان میں سیلاب کے متاثرین کی براہ راست امداد کرنے سے بالکل منع کیا۔

دریں اثنا ملک کے وزارتِ خارجہ اور داخلہ نے خیراتی اداروں کو بلوچستان میں کام کرنے کے لیے ’پراجکیٹ نو اوبجکشن سرٹیفیکیٹ‘ لینے کی شرط عائد کر دی۔ چونکہ دوسرے صوبوں میں امدادی کام کرنے کے لیے کھلی چھٹی تھی، اس لیے تمام امدادی اداروں نے ادھر کا رخ کیا۔

حالیہ 7.7 شدت کے زلزلے کے بلوچستان کے سماجی و معاشی حالات پر تباہ کن اثرات ہوں گے اور اس سے غربت مزید بڑھے گی۔

اس مشکل وقت میں این ڈی ایم اے یا مرکزی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی اداروں کو امدادی کارروائیوں سے روکنا اور دوست ممالک سے امداد لینے سے انکار کرنا اور ایک پورے صوبے کو بند کرنا انسانیت کی خدمت نہیں ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

اسی بارے میں