خان صاحب عمران خان کا دھرپد!

نواز شریف اور عمران خان
Image caption یہ بھی ممکن ہے عمران خان نادانستگی میں شریف برادران کی نقل کر رہے ہوں؟

لوگ خان صاحب عمران خان کو بھلے کچھ بھی کہیں اور سمجھیں یا نہ بھی سمجھیں، لیکن میں انہیں سنتِ عیسوی کا سچا پیروکار، گاندھی جی کا بھگت، باچا خان کا پرستار اور منڈیلا کی فلاسفی کا مداح سمجھتا ہوں۔ پر مشکل بس ایک ہے۔

پچھلے زمانے میں سفاک دشمن بھی کسی نہ کسی آفاقی ضابطے اور قدروں کے تحت کاروبارِ دشمنی چلاتا تھا۔ کبھی بھی اپنے گھر کے دائیں بائیں آگے پیچھے کے چالیس چالیس گھروں کو نہیں ستاتا تھا۔ ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور بچوں کو مائیں، بہنیں، بزرگ اور بچے ہی سمجھتا تھا۔ جتنے بھی حساب چکتے کرنے ہوتے، وہ اپنے محلے سے ذرا پرے ہو کر بے باق کرتا تھا۔ طاقتور سے ڈرتا نہیں تھا اور کمزور کو ڈراتا نہیں تھا۔

یہ وہ ماحول تھا جس میں حضرت عیسیٰ علیہ سلام نے کہا تھا کہ اگر کوئی تمہارے دائیں گال پر چانٹا مارے تو اپنا بایاں گال بھی پیش کر دو۔ مراد یہ تھی کہ ایک وقت ضرور ایسا آئے گا کہ دشمن کا ہاتھ نہتے پر اٹھنے سے انکار کر دے، اس کا دل پسیجنے لگے۔ یوں وہ کوہِ پہلوانی سے اتر کر گفتگو تک آ جائے۔ یا قائل ہوجائے یا کرلے۔ اور اگر ایسا نہیں بھی ہو تو بھی آئندہ کسی کمزور اور نہتے پر مردانگی آزمانے سے پہلے اپنے اندر کی آواز ضرور سنے۔

اس عیسوی فلسفے نے 1990 تک کسی نا کسی حد تک کام دکھایا۔ ورنہ گاندھی، باچا خان اور منڈیلا کبھی نا پنپتے۔ لیکن اگر یہ تینوں آج کے پاکستان میں ہوتے تو سوچیے کیا ہوتا۔گاندھی قصہ خوانی بازار کے بم دھماکے میں اڑ جاتے، باچا خان ٹارگٹ کلنگ کا شکار بنتے اور منڈیلا اغوا ہونے کے بعد تاوان کی عدم ادائیگی کے سبب ذبح ہوچکے ہوتے۔

لال پھندنے والی ترک ٹوپی صدیوں شرفا کی نشانی رہی۔ آج یہ سرکس کے مسخروں کی میراث ہے۔کوئی لمڈا اگر غصے میں کبھی گھر سے نکل کر چاقو لہرا دیتا تو محلے دار اس کے گھر کے آگے سے گزرنے کو بھی معیوب سمجھتے تھے مگر آج اسلحہ شرافت کا سٹیٹس سمبل ہے۔ کسی دشمن کے گھر اگر مخالف کی کوئی عورت دہائی دیتی پہنچ جاتی تو دشمنی منجمد ہوجاتی۔ آج قاصد عورت ہی غائب ہوجاتی ہے۔

مجھ سمیت بہت سوں کو اب بھی عمران خان کی نیت اور اخلاص پر قطعاً شبہ نہیں، لیکن ہوسکتا ہے کہ وہ غلط نمبر پر ڈائل کر رہے ہوں؟ یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ کسی تمل کو نہایت اخلاص کے ساتھ فارسی میں فلسفہِ امن سمجھا رہے ہوں؟ کہیں وہ بیگانی شادی میں عبداللہ تو نہیں بن رہے؟ یہ بھی ممکن ہے وہ نادانستگی میں شریف برادران کی نقل کر رہے ہوں؟ لیکن گرگانِ باراں دیدہ شریف برادران اس وقت جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ کرنے سے پہلے انہوں نے اپنے پچھواڑے یعنی پنجاب کو ’ادھر تم ادھر ہم‘ کے فلسفے کے تحت ’شریکوں‘ سے محفوظ کیا ورنہ تو جو بارودی گاڑی فاٹا سے پشاور جاسکتی ہے وہی گاڑی آدھے وقت میں فاٹا سے ڈیرہ غازی خان اور میانوالی بھی پہنچ سکتی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ راستے میں دریائے سندھ اور پنجابی طالبان پڑتے ہیں۔

شاید عمران خان لاشعوری طور پر جماعتِ اسلامی سے متاثر ہیں۔ لیکن جماعتِ اسلامی کو تو ایسی بلائیں سدھانے کا پرانا تجربہ ہے اور خان صاحب تو ابھی اس مدرسے میں ابتدائی قاعدہ بھی ختم نہیں کر پائے جہاں سے جماعت برسوں پہلے پی ایچ ڈی کر چکی۔ شاید خان صاحب مولانا فضل الرحمان سے نادانستہ متاثر ہوں؟ لیکن اس موازنے سے کہیں یہ مصرع کہنے والی روحِ اقبال خفا نہ ہو جائے کہ

لڑا دے ممولے کو شہباز سے

ہوسکتا ہے نرگسی خان صاحب خود سے ہی متاثر ہوں؟ مگر کیا خان صاحب کو پورے کرکٹ کیریئر میں کبھی ایسی بال بھی ملی جس میں بارود بھرا ہو؟ کیا کبھی شوکت خانم ہسپتال میں کینسر کا کوئی ایسا مریض آیا جو بیڈ پر لیٹے لیٹے پھٹ گیا ہو۔گر یوں ہوتا تو پھر کون سا کپتان اور کہاں کا سوشل ورک اور کیسا آئیڈیل ازم؟

نہ تو خیبر پختون خوا کی کابینہ ورلڈ کپ کرکٹ ٹیم ہے اور نہ ہی یہ صوبہ شوکت خانم ٹرسٹ ہے۔ بلکہ صوبہ کیا ہے ایک گرم آلو ہے جو نہ ہتھیلی پر ٹک رہا ہے اور نہ ہی منہ میں رکھا جا رہا ہے۔ یا شاید گرم آلو بھی نہیں بلکہ کینسر کے ٹرمینل سٹیج کا وہ مریض ہے جس کا معالجہ ایم بی بی ایس سالِ اول کے سٹوڈنٹس کے ہاتھ میں ہے اور ان کا خیال ہے کہ آپریشن کے بجائے اس مرحلے پر اسپرو زیادہ مؤثر ہے۔

بات یہ ہے کہ اگر ایک گال پر چپت کا فلسفہ جنگلوں پر بھی لاگو ہوسکتا تو شیر اور بکری کتابوں سے باہر بھی ایک گھاٹ پانی پی رہے ہوتے۔

یونہی ایک شعر یاد آگیا جس کا نرم دل مصالحت جو خان صاحب سے دور دور کا واسطہ نہیں:

محفل میں کر رہے ہیں وہ غیر کو سلام وعلیکم السلام کیے جا رہا ہوں میں