جگہ جگہ ایف سی چوکیاں اور آزاد بلوچستان کے جھنڈے

Image caption مشکے کے راستے سرکاری عمارتوں پر واضح طور پر آزاد بلوچستان کا جھنڈا دیکھا جاسکتا تھا

فوجی قافلہ جیسے ہی ڈھلان سے اترتا ہے تو فوجی اہلکار ایک دم پوزیشن لے لیتے ہیں اور سڑک کے کنارے جانے والے ایک شخص کو روک کر تلاشی لیتے ہیں۔ پرانے کپڑوں میں ملبوس اس شخص نے پیروں میں چپل پہنی ہوئی تھی، جسے بلوچی زبان میں سواس کہتے ہیں۔ اس شخص نے ایک پوٹلی اٹھا رکھی تھی جس کو بندوق کی نوک پر کھول کر دیکھا گیا۔

’امداد نہیں دیتے تو نہ دیں، ماریں تو نہیں‘

آگ اپنے رسک پر جاؤ

ایف سی کے قافلے پر حملہ، تین اہلکار ہلاک

’امدادی کارروائیاں روکنا انسانیت کے خلاف جرم‘

چند لمحوں بعد اس کو کلیئر کرکے کاررواں آگے روانہ کیاگیا۔ یہ منظر تھا مشکے کی طرف جانے والی سڑک کا۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کے آبائی علاقے پر ان کے ساتھیوں کی گرفت خاصی مضبوط ہے۔ یہاں مزاحمت کار ریاستی اداروں کی آمد کی مزاحمت کر رہے ہیں۔ جمعرات کو این ڈی ایم اے کے ہیلی کاپٹر پر راکٹ بھی داغے گئے۔

فوجی قافلے میں امدادی سامان سے بھرے ہوئے ایک درجن ٹرکوں کے ساتھ اتنی ہی تعداد میں فوجی گاڑیاں شامل تھیں اور آخر میں ایک ایمبولینس بھی آہستہ آہستہ چلتی رہی۔ جب ہماری گاڑی نے آگے نکلنے کی کوشش کی تو اہلکاروں نے اشارے سے پیچھے رہنے کی ہدایت کر دی۔

کچھوے کی چال چلتا ہوا یہ قافلہ آخرکار منگلی کے قریب اپنے بیس سٹیشن پر پہنچا۔ وہیں ہمیں قافلے سے آگے نکلنے کا موقع بھی مل گیا۔ تھوڑا ہی دور چلے ہوں گے کہ سامنے سے فوج کا ایک پیدل دستہ بم ڈسپوزل آلات کے ساتھ راستے کو کلیئر کرتا ہوا جا رہا تھا۔ یہ تمام لوگ سڑک کے کناروں پر آئی ای ڈی تلاش کر رہے تھے لیکن زلزلے کے بعد سے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

یہ اہلکار پیچھے سے آنے والے بڑے قافلے کے لیے شاید راستہ صاف کر رہے تھے۔ ہم اسی قافلے کو کراس کر کے آگے نکل آئے تھے۔ اسی سڑک سے سویلین گاڑیاں بغیر رکاوٹ اور خوف و خطر آگے جا رہی تھیں۔

آواران سے مشکے جانے کے لیے راستے پر کہیں کہیں پکی سڑک بھی موجود ہے۔ مشکے پہنچنے کے لیے تین سے چار برساتی ندیاں بھی عبور کرنا پڑتی ہے، جن میں تھوڑا پانی بھی موجود ہے۔

بڑے پہاڑوں کی چند چوٹیوں پر ایف سی اہلکار تعینات ہیں، جو آنے جانے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایف سی بیس کیمپ کے قریب موجود منگلی گاؤں میں بھی کئی گھر منہدم نظر آئے۔ جیسے جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے شدید متاثرہ علاقے سامنے آ رہے تھے۔ مساجد اور سرکاری سکول پکی اینٹوں سے بنے ہوئے تھے جبکہ مکانات کچے تھے۔

راستے میں آنے والے علاقوں کی دیواروں پر آزادی کی تحریک میں شامل جماعتوں کے نعرے تحریر تھے جبکہ سرکاری عمارتوں پر واضح طور پر آزاد بلوچستان کا جھنڈا دیکھا جاسکتا تھا۔

مشکے کے قریب سامنے سے فوج کا ایک اور قافلہ آتا ہوا نظر آیا جس کے کئی فوجی پیدل تھے۔ ایک گاڑی میں دو سویلین بھی تھے جنہیں اہلکاروں نے دبوچ کر رکھا ہوا تھا۔ اسی دوران زلزلے کے جھٹکے شروع ہو گئے اور ایک فوجی اہلکار نے اشارے سے بتایا کہ زمین ہل رہی ہے، لیکن ہم گاڑی میں بیٹھے رہے۔

پیر کی صبح تک اس کے علاوہ کسی ریلیف کارروائی کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ مشکے سے بیس کلومیٹر باہر جیسے زمین ہموار ہوئی تو ایف سی کی چوکیاں اور موجودگی بھی ختم ہوچکی تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ اب سرمچاروں یعنی آزادی پسندوں کے علاقے کی حدود شروع ہوگئی ہیں۔

Image caption آوراں سے مشکے تک راستے میں صرف دو خیمے نظر آئے

مشکے میں جیسے داخل ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا، جیسے آثار قدیمہ کے کسی شہر میں داخل ہوئے ہوں۔ اسی فیصد مکانات گر چکے تھے، جو موجود تھے ان میں بھی دراڑیں پڑی ہوئی تھی۔ مدرسہ، سکول، ہپستال سمیت ہر عمارت زمین بوس ہو گئی تھی۔

بازار میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ آج ایف سی ایک طویل عرصے کے بعد شہر میں داخل ہوئی تھی، اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی اور اسی دوران تین نوجوانوں کو اٹھا کر لےگئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ پہلے سے یہ کارروائیاں جاری تھیں لیکن قدرتی آفت کے بعد بھی نوجوانوں کو اٹھایا جا رہا ہے ۔ اٹھائے گئے نوجوانوں کی شناخت سرور ولد شیر محمد اور حبیب ولد درے اور منیر کے ناموں سے کی گئی۔ سرور دکاندار اور منیر سبزی فروش تھا۔

یہ داستان سننے کے بعد ہم تھوڑ آگے گئے جہاں طبی کیمپ قائم کیا گیا تھا، یہ کیمپ کھجی کی ٹہنیوں کی مدد سے بنایا گیا تھا جس پر کپڑا یا چٹائی ڈالی ہوئی تھی، جن کے اندر مرد، خواتین اور بچے موجود تھے۔ یہ کیمپ بی ایس او آزاد اور بلوچ نیشنل موومنٹ نے قائم کیا ہے۔ یہ دونوں جماعتیں ڈاکٹر اللہ نذر کی حمایتی ہیں۔

یہاں موجود ڈاکٹروں نے بتایا کہ صبح کو ایف سی کی گاڑیاں آئی تھیں جنہوں نے سیدھی فائرنگ کی، جس سے کوئی نقصان تو نہیں ہوا لیکن مریضوں میں خوف و ہراس ضرور پھیلا۔ ڈاکٹروں نے قریبی لیویز کے دفتر میں جاکر پناہ لی۔

یہ نوجوان ڈاکٹر رضاکارانہ طور پر جمع ہوئے ہیں، وہ اپنے ساتھ دوائیں بھی لےکر آئے تھے جو ان کے مطابق ختم ہوچکی ہیں۔ اسی بات چیت کے دوران نوکجو گاؤں سے زخمیوں کی آمد شروع ہوگئی ان مریضوں کو ڈاٹسن پک اپ کی مدد سے لایا جارہا تھا۔

جب کیمپ کم پڑے گئے تو فوری طور پر کھڈے کھود کر دو اور خیمے تیار کیے گئے۔ تین زخمیوں کے ساتھ آنے والے نوجوان شہزاد بلوچ نے بتایا کہ ان کے مکانات پہلے زلزلے سے متاثر ہوئے تھے دوسرے زلزلے میں تمام ہی منہدم ہوگئے۔

نوکجو گاؤں میں بیس افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوئے، شہزاد بلوچ نے بتایا کہ وہ زخمیوں کو لا رہے تھے تو راستے میں ایف سی نے روکا لیکن وہ نہ رکے جس پر انہوں نے فائر کیا لیکن وہ بغیر ڈرے یہاں پہنچے، مشکے کے باہر بھی ایف سی موجود تھی جس نے بھی دوبار روک لیا۔

سورج غروب ہونے کے قریب تھا مگر ان ڈاکٹروں کے پاس صرف ایک سولر پینل تھا جس کے ساتھ دو بلب منسلک تھے، ان کی مدہم روشنی میں یہ مریضوں کا علاج کرتے رہے، زخمیوں میں سے کچھ ابتدائی طبی امداد کے بعد روانہ ہوئے دوسروں کو کسی بڑے ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت تھی لیکن ایمبولینس دستیاب نہ تھی۔

وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ سے اسی روز غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے ملاقات کی تھی، جس میں ان سے ایف سی کی شکایت کی گئیں اور بتایاگیا کہ وہ ریلیف کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر مالک نے سیکیورٹی وجوہات کا عذر پیش کر کے اس ضمن میں مدد کرنے سے مجبوری ظاہر کی۔

رات کو ہم نے اپنا رخ دوبارہ آواران کی طرف کر لیا۔ راستے میں ایدھی فاؤنڈیشن کی ایک درجن کے قریبی گاڑیاں اندھیرے اور خاموشی کا سینہ چیرتی ہوئی مشکے کی طرف جاتے ہوئے نظر آئیں۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ جو قافلہ صبح کو سامان کے ساتھ آیا تھا اس نے وہ سامان کہاں تقسیم کیا، کیونکہ مشکے تک اس سامان کی تقسیم کا عمل نظر نہیں آیا۔

اسی بارے میں