بلوچستان: ’375 ہلاکتیں‘، امدادی آپریشن جاری

Image caption این ڈی ایم اے کے مطابق ان زلزلوں سے ہزاروں مکانات کو نقصان پہنچا ہے

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پیر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گذشتہ ہفتے صوبے بلوچستان میں آنے والے زلزلوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تعداد 375 جبکہ زخمیوں کی تعداد 815 ہے۔

بلوچستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق آواران اور کیچ کے اضلاع میں زلزلے سے مجموعی طور پر 37 ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں اور صوبے کے مختلف اضلاع میں امدادی کارروائیوں میں 22 ہزار سے زیادہ خیمے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ زلزلے کے بعد پاکستان کو بین الاقوامی برادری نے امداد کی پیشکش کی ہے تاہم حکومت اپنے وسائل سے ہی متاثرہ افراد کی مدد کرے گی۔

بلوچستان میں گزشتہ منگل اور سنیچر کو آنے والے دو زلزلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور ضلع آواران میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

متاثرہ علاقے میں ایک اور زلزلہ، مشکے میں تباہی

آواران میں متاثرین نے امدادی ٹرک لوٹ لیے

فلاحی تنظیمیں خاموش کیوں ہیں:آڈیو

ادھر پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں زلزلوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 476 ہوگئی ہے جب کہ 425 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پیر کو راولپنڈی میں صحافیوں سے بات چیت میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امدادی کارروائیوں میں پاکستانی فوج کے دو ہزار جوان شریک ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امدادی کارروائیوں میں مصروف پاکستانی فوجیوں پر اب تک چھ مرتبہ حملہ کیا گیا ہے تاہم امدادی مشن متاثرین کی بحالی تک جاری رہے گا۔

جنوب مغربی بلوچستان میں 24 ستمبر کو 7.7 اور 28 ستمبر کو 7.2 شدت کے زلزلے آئے تھے اور متاثرہ علاقوں کے دور افتادہ ہونے کے باعث امدادی کارکنوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ادارے نے نے زلزلے سے متاثرہ افراد کو امدادی اشیا پہنچانے کے لیے خضدار اور بیلہ میں اپنے مراکز قائم کیے ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ مراکز فوج اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کام کر رہے ہیں۔

حکومتِ بلوچستان نے متاثرین میں امدادی اشیا کی تقسیم کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے جو فوج، سول انتظامیہ اور متاثرہ علاقوں کے عمائدین پرمشتمل ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں چند علیحدگی پسند تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ زلزلے کے باوجود فوج کی جانب سے عسکری کارروائی جاری ہے اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے گولہ باری کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل پاکستان میں ریاستی اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے بلوچستان کے زلزلے کے علاقوں میں علیحدگی پسند بلوچوں کو یقین دہانی کروائی تھی کہ فوج علاقے میں امدادی کارروائیوں کی آڑ میں اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔

اسی بارے میں