بینظیر بھٹو قتل کیس پر کارروائی دوبارہ

Image caption بینظیر بھٹو ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو راولپنڈی میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئی تھیں

پاکستان کے شہر راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں ملزمان پر فرد جُرم عائد ہونے کے بعد عدالتی کارروائی ازسرنو شروع کی جائے گی۔

منگل کو عدالت نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی عدالتی کارروائی ازسرنو شروع نہ کرنے سے متعلق درخواست مسترد کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔

یہ درخواست پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹر ی جنرل اور سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے دائر کی تھی۔

’بینظیر بھٹو کو پورےگاؤں نے قتل کیا‘

بےنظیر قتل کیس کے سرکاری وکیل قتل

رواں سال بیس اگست کو اس مقدمے میں عدالت نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سمیت آٹھ افراد پر فردِ جرم عائد عائد کر دی تھی اور دوبارہ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے اُنہیں طلب کیا تھا۔

سردار لطیف کھوسہ کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی عدالتی کارروائی کو شروع ہوئے بھی پانچ سال سے زائد کا عرصہ گُزر چکا ہے اس لیے اس اہم مقدمے کی کارروائی کو ازسرنو شروع کرنے کی بجائے باقی ماندہ گواہان کے بیانات قلمبند کیے جائیں۔

اس مقدمے میں پراسکیوٹر جنرل چوہدری اظہر نے اس درخواست کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اس مقدمے کی کارروائی کو ازسر نو شروع کرنے کی بجائے وہیں سے شروع کیا جائے جہاں سے اس مقدمے کی کارروائی روکی گئی تھی۔

واضح رہے کہ سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے چوہدری اظہر کو اس مقدمے میں سرکاری وکیل مقرر کیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سابق وزیر اعظم کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے دیگر پانچ ملزمان کے وکلاء نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کسی بااثر شخصیت کے مقدمے میں ملوث ہونے پر قانون کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی کارروائی ازسر نو شروع نہ کی گئی تو دنیا میں یہ تاثر جائےگا کہ عدالت سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو اس مقدمے میں ریلیف دینا چاہتی ہے۔

ملزمان قاری عبدالرشید اور شیر زمان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ جب اُن کے موکلوں کو گرفتار کیا گیا تھا اُس وقت بھی عدالتی کارروائی کا ازسرنو آغاز کیا گیا تھا اس لیے قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس مقدمے کی عدالتی کارروائی ازسرنو شروع کی جانی چاہیے۔

یاد رہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت آٹھ نامزد ملزمان ہیں جن پر فرد جُرم عائد ہو چکی ہے جبکہ اس سے پہلے اس مقدمے میں چوبیس سرکاری گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے علاوہ اُن پر جرح بھی مکمل ہو چکی تھی۔

اس مقدمے میں 128 سرکاری گواہان کی فہرست پیش کی گئی ہے تاہم سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ اس فہرست کو مختصر کیا جائے گا۔

اسی بارے میں