بلوچستان زلزلہ: ہلاکتیں 400، تین لاکھ متاثر

Image caption گذشتہ ہفتے اس چھوٹے سے گاؤں میں آنے والے زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور صرف یہاں بائیس افراد ہلاک ہوئے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گذشتہ منگل کو آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں اب تک چار سو افراد ہلاک اور تین لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

زلزلے کے نتیجے میں آنے والی تباہی اور حکومتی ردِعمل سے ملک میں پائے جانے والے شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔

بلوچستان: ’375 ہلاکتیں‘، امدادی آپریشن جاری

’امداد نہیں دیتے تو نہ دیں، مارے تو نہیں‘

آگے اپنے رسک پر جاؤ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ ضلع آواران سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر ایک گاؤں تیرتاج واقع ہے۔ گذشتہ ہفتے اس چھوٹے سے گاؤں میں آنے والے زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور صرف یہاں 22 افراد ہلاک ہوئے۔

زلزلے میں بچنے والے متعدد افراد صدمے سے دوچار ہوئے اور ان میں سے بیشتر کے بازو، پسلیوں اور سروں پر چوٹیں آئی ہیں۔

بلوچستان کے ضلح آواران کے بڑے ہسپتال میں کوئی ایکسرے مشین نہیں ہے۔

زخمی ہونے والے افراد میں جو استطاعت رکھتے تھے وہ اپنے رشتہ داروں کو چھ سے سات گھنٹے کی مسافت پر کراچی لے گئے ہیں۔

زلزلہ آنے کے 48 گھنٹے بعد جب پاکستانی سپاہی خیموں اور کھانے پینے کی چیزوں کے ٹرک لے کر وہاں پہنچے تو متاثرہ دیہاتیوں نے انھیں واپس بھیج دیا۔ ایک دیہاتی کا کہنا تھا کہ ہم نے انھیں (سپاہیوں) کو بتا دیا کہ ہمیں ان سے کچھ نہیں چاہیے۔

خیال رہے کہ بلوچستان زلزلے کے بعد فوج، پیرا ملٹری فورس اور فرنٹیر کور کے خلاف کی جانے والی مزاحمت چند دیہات تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ پورے صوبے تک پھیل گئی ہے۔

بلوچستان کی حکومت نے زلزلے کے بعد وہاں ہزاروں پاکستانی سپاہیوں کو تعینات کر دیا ہے جنھوں نے منظم طریقے سے صوبہ کا کنٹرول سنبھالا ہے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی علاقائی سالمیت کے لیے لڑ رہی ہے اور اسے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کا بھی سامنا ہے جنھیں ان کے بقول بیرونی (بھارت) کی حمایت حاصل ہے۔

بلوچستان میں پاکستانی فوج کو بھی ’بیرونی فوج‘ تصور کیا جاتا ہے جو زیادہ تر پنجابی اور پشتونوں پر مشتمل ہے۔

Image caption پاکستانی فوج پر مقامی افراد کو غائب کرنے اور دورانِ حراست ہلاکتوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے جس کی وہ تردید کرتی ہے

بلوچستان کے افراد پاکستانی فوج پر مقامی افراد کو غائب کرنے اور دورانِ حراست ہلاکتوں کا الزام عائد کرتے ہیں جس کی وہ تردید کرتی ہے۔

بلوچستان قوم پرستوں کے گروپوں میں سے ایک بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن ہے۔ اس کے صدر 29 سالہ بلوچ خان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ایسا کوئی گاؤں نہیں جسے پاکستانی فوج کے ظلم و جبر کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔

ان کا کہنا ہے ’میرے بہت سے دوستوں اور ساتھیوں کو پکڑ کر ہلاک کیا گیا اور ان میں سے بیشتر اب بھی لاپتہ ہیں۔‘

بلوچ خان کراچی یونیورسٹی میں تاریخ کے طالبِ علم تھے لیکن انہیں اپنی پڑھائی چھوڑ کر بلوچستان کے پہاڑوں پر پناہ لینا پڑی۔

بلوچ خان بلوچ علیحدگی پسندوں کے جس دھڑے کی قیادت کر رہے ہیں اسے حکام پاکستان دشمن عسکریت پسند تنظیم قرار دیتے ہیں۔

بلوچستان کے دیگر کمانڈروں کی طرح بلوچ خان پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں سے بھاگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’اگر انھوں نے مجھے تلاش کر لیا تو وہ مجھے مار ڈالیں گے۔‘

بی بی سی نے بلوچ خان کے ساتھ آواران میں ایک خفیہ جگہ پر ملاقات کی۔

بلوچ خان نے بی بی سی کو بتایا ’یہ میرا گھر ہے جس پر پاکستانی فوج نے قبضہ کر رکھا ہے ہم بلوچستان کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘

جب بی بی سی کے نامہ نگار نے ان سے پوچھا کیا آپ شدت پسند ہیں اور کیا آپ نے اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار اٹھا رکھے ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا نہیں، میں اپنے پاس کتابیں رکھتا ہوں اور میں ہوچی مِنھ اور چی گویرا جیسے افراد کے بارے میں پڑھنا پسند کرتا ہوں۔

جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں حکومتی بحالی کی کوششوں کو کیوں متاثر کرتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا ’ہمیں مدد کی فوری ضرورت ہے، تاہم جن لوگوں نے ہمارے گھر تباہ کیے، ہمارے لوگوں کو ہلاک کیا اور جو دہائیوں سے ہمیں غلام بنائے ہوئے ہیں ہم ان سے کیسے مدد لے سکتے ہیں؟‘

بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج آواران میں آنے والی قدرتی آفت کو بہانہ بنا کر یہاں شدت پسندوں کے خلاف نیا فوجی آپریشن کرنے کے لیے مزید فوجیوں کو تعینات کرنا چاہتی ہے۔

پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ آواران میں آنے والے زلزلے کے بعد ان کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کوئٹہ اور کراچی سے بھی ان کی کمک جاری ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اضافہ زلزلے کے بعد جاری آپریشن کی وجہ سے ہوا ہے۔

دوسری جانب انفنٹری ڈویژن 33 کے میجر جنرل محمد سمریز سالک کا کہنا ہے کہ ان کی امدادی اور بحالی ٹمیوں پر فائرنگ کی گئی، ہمارے ہیلی کاپٹروں پر حملے کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا ’شدت پسند ہمارے امدادی اور بحالی آپریشن کو متاثر کر رہے ہیں تاہم ہم بھی جوابی کارروائی کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں