نشریاتی حقوق کی بولی میں عدم شرکت بدنیتی

Image caption پی ٹی وی کے بولی میں شریک نہ ہونے کا فائدہ کس کو ہوا یہ کہنا قبل از وقت ہے

سینٹ کی اطلاعات و نشریات سے متعلق قائمہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کا سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے نشریاتی حقوق کی بولی میں شرکت نہ کرنا بدنیتی معلوم ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے نشریاتی حقوق ٹین اسپورٹس اور سری لنکا کی سیریز کے نشریاتی حقوق جیو سوپر کو دے دیئے ہیں۔

سٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز اسلام آباد میں سینیٹر کامل علی آغا کی صدارت میں ہوا جس میں پاکستان ٹیلی ویژن کے حکام سے اس بات کی وضاحت طلب کی گئی کہ انہوں نے نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے عمل سے خود کو الگ کیوں رکھا۔

سینیٹر کامل علی آغا نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کمیٹی کے سامنے ابھی تک جتنے بھی حقائق سامنے آئے ہیں ان میں پی ٹی وی کی طرف سے بدنیتی کا عنصر زیادہ دکھائی دے رہا ہے کیونکہ کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ نشریاتی حقوق کے عمل میں پی ٹی وی کے حصہ نہ لینے کا فائدہ کس کو ہوا لیکن اس پورے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جارہا ہے اور اگلے اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے نگراں چیئرمین کو بلانے کے لئے سینیٹ کے چیئرمین سے درخواست کی جارہی ہے۔

سینٹیر کامل علی آغا نے کہا کہ سیکریٹری اطلاعات و نشریات نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی کو ایک خاص رقم کی حد تک نشریاتی حقوق کی پیشکش کرنے کا اختیار دیا گیا تھا لہٰذا یہ سوال سامنے آیا ہے کہ ایک خودمختار ادارے کے اختیارات کیوں اور کیسے سلب کئے گئے ۔

انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ایک قومی ادارے نے نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے عمل میں حصہ کیوں نہیں لیا ؟۔

سینیٹر کامل علی آغا سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا اسٹینڈنگ کمیٹی اس بات کو بھی پیش نظر رکھے گی کہ ایک ٹی وی چینل کو نشریاتی حقوق کیوں دیئے گئے جو پہلے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا مقروض ہے؟ تو ان کا جواب تھا کہ یقیناً کمیٹی بہت سے سارے سوالات کا جواب جاننا چاہے گی تاہم کمیٹی کا زیادہ تر زور ان معاملات پر ہوگا جن کا تعلق پی ٹی وی کے مفاد سے ہے۔

اسی بارے میں