پشاور: موبائل کمپنیوں کے وارنٹ جاری

Image caption غیر قانونی سمز نیشنل سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہیں: چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے غیر قانونی سمز کے بارے میں از خود لیےگئے نوٹس کی سماعت کے دوران موبائل فون کی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے متعدد افسران کے قابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق جن افسران کے وارنٹ جاری کیےگئے ہیں ان میں کمپنیوں کے جنرل مینیجرز ، چیف ایگزیکٹوز اور ڈائریکٹرز شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ موبائل فون میں استعمال ہونے والی غیر قانونی سمز (سبسکرائبرز آیڈنٹٹی ماڈیولز) دہشت گردی کے واقعات میں استعمال ہو رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں مجبور نہ کیا جائے کہ وہ اس سے بھی سخت کارروائی کا حکم دیں کیونکہ غیر قانونی سمز نیشنل سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ انھوں نے ڈائریکٹر جنرل احتساب بیورو اور ڈائریکٹر ایف آیی اے سے بھی کہا ہے کہ وہ اس بارے میں مکمل تحقیقات کریں۔

اس مقدمے پیں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اشتیاق ابراہیم ایڈوکیٹ پیش ہوئے ۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف جسٹس نے ان کمپنیوں کے افسران کے پانچ پانچ لاکھ روپے کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے ہیں۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت تیس اکتوبر کو ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ چیف جسٹس دوست محمد خان نے خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں افعانستان کی موبائل کمپنیوں میں استعمال ہونے والی سمز کے فروخت پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ چیف جسٹس نے خیبر پختونخوا حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام سے کہا ہے کہ ان غیر ملکی سمز کی فروخت کو فوری طور پر روکا جائے ۔

اس موقع پر اسی نوعیت کے ایک مقدمے کی سماعت بھی ہوئی جس میں ایک موبائل فون کے ذریعے پیغام میں ایک شخص سے تاوان کی رقم طلب کی گئی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح کی سمز صرف دہشت گردی کے واقعات ہی نہیں بلکہ دیگر جرائم میں بھی استعمال ہو رہی ہیں۔

چیف جسٹس دوست محمد خان نے موبائل فون میں استعمال ہونے والی غیر قانونی سمز کے حوالے سے از خود نوٹس لیا تھا اور گزشتہ سماعت میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر دہشتگردی یا کسی جرم میں بھی کسی بھی کمپنی کی سم اگر استعمال ہوئی تو اس کارروائی میں ہونے والا نقصان کمپنی کو برداشت کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں