’بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر نظر ثانی کریں‘

پاکستان سپریم کورٹ
Image caption اگر حکومت اپنا کام کرے تو عدالت کو مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو دو روز میں بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں عدالت کو مداخلت کرنا پڑے گی۔

عدالت کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ غیر قانونی ہے۔

وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں چار اکتوبر کو عدالت میں جواب جمع کروائے گی ۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا خود مختار ادارہ ہے اور وہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا خود تعین کرتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ نیپرا نے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو الگ الگ ریٹ دیے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیپرا کے چیئرمین نے خود عدالت کو بتایا ہے کہ اُن کے ادارے نے بجلی کی قیتموں میں حالیہ اضافہ نہیں کیا بلکہ یہ قیمتیں حکومت نے اپنے طور پر بڑھائی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جب کہ پاکستان میں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرے گی تو عدالت کو مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

یاد رہے کہ حکومت نے یکم اکتوبر سے بجلی کی قیمت میں تیس فیصد سے دو سو فیصد اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک اضافے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے کہا تھا کہ دو سو یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کے ٹیرف میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 170 ارب روپے بجلی کی رعایت کی مد میں ادا کر رہی ہے۔

پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے عدالت کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں صرف 20 فیصد لوگ بجلی کا بل ادا کرتے ہیں جبکہ 80 فیصد لوگ نادہندہ ہیں۔ جس پر بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ نادہندہ افراد کا بوجھ پوری پاکستانی عوام پر تو نہ ڈالیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت بجلی چوروں اور نادہندہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے جب کہ حکومت ان افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کر کے نقصان پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی مدد کرے ۔ اُنہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے امن وامان قائم کرنے کے لیے سندھ حکومت کی مدد کی جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ وفاقی حکومت کو اس ضمن میں بلوچستان حکومت کی مدد کے لیے بھی جانا پڑے۔

خواجہ آصف نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن کی قانونی حثیت سے متعلق نیپرا اور حکومت مل کر سپریم کورٹ میں جواب جمع کروائیں گے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی نے بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سینیٹ میں تحریک جمع کروا دی ہے جبکہ اس سے پہلے حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں نے بھی قومی اسمبلی میں بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافے کے خلاف تحاریک جمع کروائی ہیں۔

اسی بارے میں