سینکڑوں بلیو پاسپورٹوں کی منسوخی کا فیصلہ

Image caption سابق بیوروکریٹس کی تعداد بھی پانچ سو سے زائد ہے جنہیں بلیو پاسپورٹ جاری کیے گئے تھے:حکام

حکومتِ پاکستان نے ڈھائی ہزار سے زائد نیلے پاسپورٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں ارکان پارلمینٹ، اُن کے اہلخانہ، سابق سرکاری افسران کے علاوہ دیگر من پسند افراد کو جاری کیے گئے تھے۔

اس ضمن میں ایک جامع فہرست وزارت داخلہ کو بجھوا دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فہرست میں سب سے زیادہ تعداد ارکان پارلیمنٹ اور اُن کے اہلخانہ کی ہے جو کہ 1280 کے قریب ہے۔ ان میں سابق ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان بھی شامل ہیں۔

قانون کے مطابق بلیو پاسپورٹ سرکاری ملازمین اور سفارت کاروں کو جاری کیے جاتے ہیں جبکہ ارکان پارلیمنٹ کو سپیکر قومی اسمبلی یا سینیٹ کے چیئرمین یا صوبائی اسمبلی کے سپیکر کے تصدیق شدہ خط کے بعد پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن محکمے کے اہلکار تنویر عباسی کے مطابق جس شخص کو بھی بلیو پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے تو اُسے نہ صرف کسی بھی ملک کا ویزہ حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ بیرون ملک سفر کے دوران مراعات ملتی ہیں یعنی اُنہیں ایئرپورٹ پر امیگریشن کے لیے لائنوں میں بھی نہیں لگنا پڑتا۔

اہلکار کے مطابق جب بھی کوئی اعلیٰ سرکاری افسر بیرون ملک تربیت کے لیے جاتا ہے تو اُسے اُتنی مدت کے لیے ہی بلیو پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔ اہلکار کے مطابق گریڈ بیس سے گریڈ بائیس تک کے سرکاری افسران بلو پاسپورٹ لینے کے اہل ہیں۔

تنویر عباسی کا کہنا تھا کہ سرخ رنگ کا پاسپورٹ صرف وی وی آئی پیز کو ہی جاری کیا جاتا ہے جبکہ سبز رنگ کا پاسپورٹ عام عوام کے لیے ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس فہرست میں شامل سابق ارکان پارلیمنٹ اور اُن کے اہلخانہ کے علاوہ سفارت کار اور بیوروکرٹیس ابھی تک یہ پاسپورٹ استعمال کر رہے ہیں کیونکہ سابق دور حکومت میں یہ پاسپورٹ پانچ سے دس سال کی مدت کے لیے جاری کیے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق اس فہرست میں سابق سفارت کاروں کے علاوہ سابق بیوروکریٹس کی تعداد بھی پانچ سو سے زائد ہے جنہیں بلو پاسپورٹ جاری کیے گئے تھے۔

اس فہرست میں نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرہ کے کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے افراد بھی شامل ہیں جو کہ بیرون ملکوں میں تعینات ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق پاسپورٹ اور امیگریشن محکمے کی طرف سے جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق ایسے افراد کے تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے جنہیں گُزشتہ حکومت کے دور میں بلیو پاسپورٹ جاری کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں