معلومات تک رسائی کا حق اور عوام کی دلچسپی

Image caption کئی دہائیوں تک پاکستان میں سول سوسائٹی اور صحافی فریڈم آف انفارمیشن سے متعلق قوانین کا مطالبہ کرتے رہے ہیں

گذشتہ برس صحافی عمر چیمہ نے وفاقی سطح پر معلومات تک رسائی کے ایکٹ 2002 کے تحت سابق وزیرِ قانون بابر اعوان کے بارے میں وزارتِ قانون سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی کہ وہ بطور سرکاری وکیل کے کتنی فیس وصول کرتے تھے۔

’جب بابر اعوان صاحب وزیر نہیں تھے تو وہ بہت سارے سرکاری کیس لیتے تھے اور ان کی فیس مبینہ طور پر پچاس لاکھ سے کم نہیں ہوتی تھی۔ میں نے معلومات تک رسائی کے حق کے تحت درخواست بھیجی کہ ان کو کتنے کیس ملے، تو خفیہ قرار دے کر میری درخواست رد کر دی گئی‘۔

’معلومات نہ دینے والے افسروں کو سزا‘

عمر چیمہ کے بقول یہ قانون غیر موثر ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ خفیہ معلومات چھوڑ دیں، عام معلومات بھی نہیں مل پاتی۔

کئی دہائیوں تک پاکستان میں سول سوسائٹی اور صحافی فریڈم آف انفارمیشن سے متعلق قوانین کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاہم سابق فوجی صدر مشرف کے دور میں ایک قانون بنا لیکن یہ بھی ایشین ڈولپمنٹ بینک کی قرض دینے کی ایک شرط تھی۔

اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اسے نافذ کرنے کا عمل کمزور ہے کیونکہ سرکاری معلومات حاصل کرنے پر بہت پابندیاں ہیں۔ جو وفاق نہ کر سکی وہ اب ملک کے دو صوبے کر رہے ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں جمعہ کو معلومات تک رسائی کے حق کا آرڈیننس نافذ ہو گیا ہے۔

اس سے قبل صوبہ خبر پختونخوا نے بھی اس قانون کو اگست میں متعارف کرایا تھا۔ تاہم، بلوچستان اور سندھ میں ان قوانین سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے قوانین سے پاکستان میں رازداری کا رواج ختم ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں صوبوں نے ماہرین اور سول سوسائٹی کی مشاورت کے بعد یہ قوانین متعارف کرائے اور اس میں درخواست بھیجنے کے عمل کو نہایت آسان بنا دیا گیا۔

تھنک ٹینک سینٹر فور پیس اینڈ ڈولپمنٹ انیشیٹوز کے اہلکار زاہد عبداللہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ معلومات کی درخواستیں ای میل، فیکس یا خط کے ذریعے متعلقہ سرکاری اداروں کو بھیجی جا سکتی ہیں۔’اس درخواست کی کوئی فیس نہیں ہے اور طلب کئے گئے دستاویزات کے پہلے بیس صفحے بھی مفت فراہم کیے جائیں گے‘۔

انہوں نے بتایا کہ اگر درخواست کو مثال کے طور پر قومی سلامتی کی وجہ سے رد کیا جاتا ہے تو اپیل کرنے کا طریقہ کار بھی زیادہ شفاف بنا دیا گیا ہے۔

’ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں چار ر کنی آزاد کمیشن قائم کیا جائے گا اور یہ کمیشن نامنظور ہونے والی درخواستوں کی جانچ پڑتال کریں کا کہ کیا مانگی گئی معلومات سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا کہ نہیں‘۔

’ہم نے خیبر پختونخوا اور پنجاب کے قوانین کے مسودے دیکھیں ہیں اور ان میں کسی بھی معاملے میں استثنیٰ نہیں ہے، چاہے وہ سکیورٹی ہو یا قومی سلامتی۔ کمیشن فیصلہ کرے گا کہ اگر معلومات سے عوام کو نقصان سے زیادہ فائدہ ہو گا تو یہ منظرِ عام پر ضرور آنی چاہیے‘۔

ریاست اور عوام کے درمیان ایک تنازع ہے، ریاست وہ معلومات خفیہ رکھنا چاہتی ہے جو عام لوگ جاننا چاہتے ہیں اور اس کے بیچ صحافی ہیں، جن کا کام معلومات تک رسائی حاصل کر کے انہیں عوام تک پہنچانا ہے۔ لیکن اگر صحافی کو نکال دیا جائے تو کیا ہو گا؟

ذرائع ابلاغ کے ماہر عدنان رحمت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رازداری کا رواج تب تک ختم نہیں ہو گا جب تک عوام خود تحقیق نہیں کرے گی۔

’ہمارے شہریوں میں اتنی آگاہی نہیں ہے کہ وہ اس معلومات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ کردار میڈیا ادا کرتا ہے لیکن نجی میڈیا کاروبار بھی ہے اور ضروری نہیں کہ وہ عوام کے مفاد پر توجہ دیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود کہ بھارت میں رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون پاکستان کے قانون کے چار سال بعد متعارف کروایا گیا، وہاں عام شہریوں اور کارکنوں میں زیادہ آگاہی ہے اور اسی لیے معلومات تک رسائی کا حق بھی زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تو کیا ان قوانین سے پاکستانی معاشرے میں تبدیلی آئے گی؟ زاہد عبداللہ کہتے ہیں کہ بنیاد اب ڈل گئی ہے۔

’ہم نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ضلعی انتظامیہ کو سرکاری گاڑیوں کے لاگ بکس کی تفصیلات کی درخواست کی۔ پنجاب میں ایک ہی جواب آیا جبکہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے بعد، خیبر پختونخوا کے پچیس ضلعوں سے چار کا جواب آیا۔ یہ مثبت پیش رفت ہے‘۔

اب تک پاکستان میں معلومات ایک مخصوص طبقے تک محدود رہی ہے۔ اب اسے عام کرنے کے لیے صحافی نہیں بلکہ عام لوگوں کی دلچسپی بھی ضروری ہے۔

اسی بارے میں