’پاکستان میں جب ہم پانی کو ترسیں گے‘

Image caption نازیہ کے مطابق جب اگلا برس سیلاب آئے گا تو دیکھا جائے گا

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب تلوار پوسٹ پر ایک عارضی خیمہ بستی بنائی گئی ہے ۔

شدید حبس اور گرمی کے موسم میں بیس کے قریب خاندانوں کے لیے یہ عارضی ٹھکانہ کسی نعمت سے کم نہیں۔

یہ خاندان دریائے ستلج کے بیچ میں کھیتی باڑی کرتے ہیں اور برس ہا برس سے یہ ہی ان کی رہائش ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے مطابق دریائے ستلج کا پانی بھارت کے زیر استعمال ہے۔ اس لیے پاکستان میں یہ دریا بالکل خشک رہتا ہے۔ لیکن زیادہ بارشوں کے باعث دو ہزار دس سے بھارت ہر برس مسلسل ستلج میں پانی چھوڑ رہا ہے جس سے دریا کے اردگرد کا علاقہ طغیانی کا شکار ہو رہا ہے۔

اب تو یہ ہر برسات کی کہانی ہے۔ تقریباً ہر برس ہی سیلاب کے باعث پاکستان میں بربادی کی ایک نئی داستان رقم ہو رہی ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے باوجود پاکستان پانی کی کمی کا شکار ہو رہا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار اب دنیا کے ایسے پندرہ ملکوں میں ہونے لگا ہے جہاں پانی کی دستیبابی دباؤ کا شکار ہے۔ بین الاقوامی پیمانے کے مطابق پاکستان جیسے ملکوں کے پاس ایک ہزار دنوں کی ضرورت کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن پاکستان محض تیس دن کی ضرورت کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس 13ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جبکہ ہر برس 34 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے۔ بلکہ کئی برس تو 55 ملین ایکڑ فٹ تک پانی ضائع کیا گیا۔

سابق چئیرمین واپڈا طارق حمید نے اسے ناقص منصوبہ بندی کا تنیجے قرار دیتے ہوئے کہا’1951 میں پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی پانچ ہزار دو سو چالیس معکب میٹر تھی جو اب ایک ہزار معکب میٹر رہ گئی ہے۔ اگر بھاشا ڈیم ہم آج بھی بنانا شروع کریں تو وہ دس برس میں مکمل ہوگا۔ اور اس کے مکمل ہونے سے پہلے ہمارے ہاں فی کس پانی کی دستیابی آٹھ سو معکب میٹر تک پہنچ چکی ہوگی جو کہ انتہائی کم ہے۔یہ اتنا کم پانی ہے کہ ہم پانی کو ترسیں گے‘۔

Image caption ایشیائی ترقیاتی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جنہیں پانی کی کمی کا سامنا ہے

لیکن پانی صرف آبی دخائر نہ ہونے کےباعث ضائع نہیں ہو رہا بلکہ ملک میں رائج کاشت کاری کے روایتی طریقے بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر سلمان شاہ کے مطابق’اب ہم پانی ضائع کرنا برداشت نہیں کر سکتے۔ فی کس پانی کی دستیابی کم ہوتی جا رہی ہے لیکن استمعال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ جس سال خشک سالی ہوتی ہے اس برس ہماری زرعی پیداوار بہت کم ہوتی ہے۔لیکن ہم بہت سا پانی کاشتکاری کے دوران بھی ضائع کر رہے ہیں۔گذشتہ حکومت نے لیزر سے زمین ہموار کرنے کے آلات دینے اور ڈرپ اریگیشن کے پروگرام شروع کیے تھے لیکن کچھ معلوم نہیں ان کا کیا بنا‘۔

سکیورٹی امور کے ماہر شوکت جاوید کا ماننا ہے کہ اگر پانی کی کمی کی طرف توجہ نہ دی گئی تو یہ صرف ملک کی داخلی سلامتی ہی نہیں بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

’سندھ طاس معاہدہ جب ہو رہا تھا تو شاید ہم نے اسے صحیح طرح پڑھا نہیں تھا۔ اور جب بھارت نے دریا کے بہاؤ پر ڈیم بنانے شروع کیے تو پھر ہماری آنکھیں کھلیں اور ہمیں پتہ چلا کہ بھارت کو یہ حقوق حاصل ہیں۔ ہم ایک دو مرتبہ عالمی عدالت میں بھی گئے۔ یہ معاملہ سلامتی کے نقطہ نظر سے کل کو خطرناک صورتحال بھی اختیار کر سکتا ہے‘۔

Image caption ملک میں چند ایک زیر تعمیر ڈیم بجلی تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن پانی زخیرہ کرنے کی خاص گنجائش نہیں

آبادی میں تیزی سے اضافہ اور زرعی معیشت رکھنے والے ملک میں پانی کی قلت خوراک کی کمی کے بجران کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ ملک بھر میں جو چند ایک ڈیم بنائے بھی جا رہے ہیں وہ تھوڑی بہت بجلی تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن پانی ذخیرہ کرنے کی کوئی خاص گنجائش نہیں رکھتے۔

ادھر تلوار پوسٹ پر لگی خیمہ بستی میں نازیہ سے پوچھا گیا کہ دوبارہ دریا کے بیچ رہنے کی کیا ضرورت ہے اگلے برس پھر سیلاب سے بربادی ہوگی تو نازیہ کا جواب تھا کہ جب اگلا برس آئے گا تو دیکھا جائے گا۔

نازیہ کی طرح پانی کی قلت کے حوالے سے پاکستان کا رویہ بھی یہی ہے۔ جب بجلی کی طرح پانی کا بحران بھی قابو سے باہر ہوگا اور لوگ بوند بوند کو ترسنے لگیں گے تو دیکھا جائے گا۔ کل کی فکر میں آج کو خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

اسی بارے میں