ہفتے کے اندر اندر نوٹیفیکشن واپس: نرخوں پر نظرِ ثانی ہوگی

Image caption از خود نوٹس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی

پاکستان کی وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمت میں حالیہ اضافے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے اور کہا ہے کہ قیمتوں پر نظرثانی کے لیے حکومت نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا سے درخواست کرے گی۔

ادھر سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت نے یکم اکتوبر سے بجلی کی قیمتوں میں تیس سے دو سو فیصد تک اضافے کا اعلان کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا۔

جمعہ کو چیف جسٹس افتِخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے پانی وبجلی کے وفاقی سیکرٹری کی طرف سے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب کا حوالہ دیا۔

اُنہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کے اختیار میں نہیں ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیپرا کے چیئرمین عدالت کو بتا چکے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ وفاقی حکو مت نے خود کیا ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بجلی کے نرخوں پر نظرِ ثانی کے لیے نیپرا کو ایک درخواست دے رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آئندہ ماہ آنے والے بجلی کے بلوں میں ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔

Image caption حکومت نے یکم اکتوبر سے بجلی کی قیمتوں میں تیس سے دو سو فیصد تک اضافے کا اعلان کیا تھا

سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ 440 ارب روپے کی نادہندگی کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رابن ہُڈ امیروں کی جیبوں سے پیسہ نکال کر غریبوں میں تقسیم کرتا تھا اور یہاں غریبوں کی جیبوں سے پیسہ نکال کر امیروں کو دیا جا رہا ہے۔

نیپرا کے چیئرمین نے عدالت کو بتایا کہ بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو گیس کی سپلائی نہیں مل رہی جس سے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ یہ پلانٹس اب ڈیزل پر چل رہے ہیں جس کی وجہ سے تین گنا زیادہ مہنگی بجلی پیدا ہو رہی ہے اور 8 روپے کا بجلی کا یونٹ 24 روپے میں پڑ رہا ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں بھی بہت سے مسائل ہیں اور کیا حکومت کے پاس اس ضمن میں کوئی پالیسی ہے۔

پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے عدالت کو بتایا کہ سردیوں میں پانی سے بجلی کی پیداوار میں کمی ہوجاتی ہے جبکہ اس عرصے کے دوران گیس کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں 80 فیصد کوگ بجلی کا بل ادا نہیں کرتے جس پر بینچ کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں کی وصولی حکومت کا کام ہے۔

اس از خود نوٹس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں