پشاور:نیا بلدیاتی نظام اور عوام کی توقعات

Image caption گاؤں میں کبھی کبھی اتنی گندگی جمع ہو جاتی ہے کہ بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے: ناظم اللہ

واحد گڑھی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے تقریباً دس کلومیٹر دور واقع ایک مضافاتی گاؤں ہے۔

یہاں گزشتہ چار سالوں کے دوران یونین کونسل کا کوئی اہلکار صفائی کےلیے نہیں آیا۔ گاؤں میں جب گندگی کے ڈھیر بڑھتے ہیں تو مقامی افراد کے پاس اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا سوائے اس کے کہ خود ہی اس گند کو صاف کر دیں۔

یہاں کے یونین کونسل کے ایک سابق ناظم ناظم اللہ بھی اس صفائی مہم میں اکثر اوقات شریک ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب سے ضلعی حکومتوں کا نظام ختم کیا گیا ہے اس کے بعد سے گاؤں میں صفائی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گاؤں میں کبھی کبھی اتنی گندگی جمع ہو جاتی ہے کہ بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے عوامی مسائل کے حل اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقلی کےلیے نئے بلدیاتی نظام کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ اس نئے قانون کو خیبر پختون خوا اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس پر بحث کے بعد اسمبلی سے منظور کر لیا جائے گا۔

Image caption آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کا نظام نہیں چلے گا بلکہ اوپر سے لے نیچے تک یکساں نظام ہونا چاہیے:سردار حسین بابک

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق اس نظام کے تحت مقامی حکومتوں کے تین بااختیار درجے رکھے گئے ہیں جس میں گاؤں، تحصیل اور ضلع کونسل شامل ہے۔ ضلع اور تحصیل کونسل کے انتخابات جماعتی اور گاؤں کونسل کا الیکشن غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات عنایت اللہ خان کا کہنا ہے نئے بلدیاتی نظام میں اختیارات آئین کی اصل روح کے مطابق نچلی سطح پر منتقل کیے جا رہے ہیں جس کا سب سے بڑا فائدہ عوام کو حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نیا نظام پچھلے ادوار میں نفاذ کئے گئے نظاموں سے نہ صرف مختلف ہے بلکہ موثر بھی ہے جس میں عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جا رہے ہیں جس کا آغاز اس صوبے سے ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق صوبائی حکومت حقیقی بنیادوں پر اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر رہی ہے جس میں پچاس فیصد فنڈز ضلعی حکومتوں کو دیے جائیں گے جس سے مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں کی نئی راہیں کھولیں گی اور عوام کے مسائل حل ہونگے۔

تاہم حزب اختلاف کی بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے نئے بلدیاتی نظام کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوامی نشینل پارٹی کے پارلیمانی رہنما سردار حسین بابک کا کہنا ہے کہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کا نظام نہیں چلے گا بلکہ اوپر سے لے کر نیچے تک یکساں نظام ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عجیب نظام ہے جس میں ضلع اور تحصیل کونسلوں کا انتخاب تو جماعتی بنیادوں پر کرایا جا رہا ہے لیکن گاؤں کونسل کا غیر جماعتی سطح پر۔

ان کے مطابق دوہرے نظام کو متعارف کرانے سے بدعنوانی اور ہارس ٹریڈنگ کو تقویت ملے گی اس لیے یکساں نظام ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے۔

پاکستان میں عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر نئی حکومت نظام میں تبدیلیوں اور اصلاحات کے اعلانات تو بڑے زور و شور سے کرتی ہے لیکن عمل درآمد اس طرح نہیں کرتی جس طرح اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی بارے میں