اسلام آباد: ’زبردستی‘ مسلمان کرنے کی کوشش، ملزمان گرفتار

پاکستان میں ایک چرچ کی چھت پر سکیورٹی اہلکار
Image caption پشاور میں ایک چرچ پر حملے کے بعد پاکستان میس چرچوس کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے

اسلام آباد پولیس نے ان تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر الزام ہے کہ اُنہوں نے ایک عیسائی شخص کو اسلحہ کے زور پر مسلمان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے اسلحہ بھی برآمد کرلیا ہے۔

تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس کے سربراہ اسجد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ تین مسلح افراد اسلام آباد ہائی وے کے ساتھ ملحقہ آبادی کھوکھر ٹاؤن میں رہائش پذیر بوٹا مسیح کے گھر میں داخل ہوئے اور اُنہیں زبردستی مسلمان کرنے کی کوشش کی۔

مذکورہ شخص کے انکار کرنے پر مسلح افراد نے اُنہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور اُن کے اہلخانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق متعقلہ تھانے کی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

تھانہ شہزاد ٹاؤن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ندیم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اُن کا تعلق شدت پسند مذہبی تنظیموں سے بھی رہا ہے تاہم اس بارے میں پولیس شواہد اکھٹے کر رہی ہے۔

مقامی پولیس کے اہلکار محمد نوید کے مطابق ملزمان علاقے میں رہائش پذیر غیر مسلموں کو دھمکیاں بھی دیتے تھے کہ مسلمان نہ ہونے کی صورت میں اُنہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پولیس اہلکار کے بقول لوگ ملزمان کے خوف کی وجہ سے تھانے میں درخواست دینے سے گھبراتے تھے۔

پولیس نے ملزمان کے خلاف توہین مذہب اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔

اسی بارے میں