اسلام آباد: چودہری قمر زمان نیب کے نئے چیئرمین نامزد

چودہری قمر زمان
Image caption حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان کئی دنوں سے مشاورت جاری تھی کہ نیب کا نیا چیئرمین کسے ہونا چاہیے اور دونوں جانب سے کئی ناموں پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا

حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان چودہری قمر زمان کو قومی احتساب بیورو کا چیئرمین بنانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ منگل کی شام کو وزیر اعظم میاں نواز شریف کا فون آیا تھا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ اس آئینی عہدے پر کسی بھی شخص کی تعیناتی میں تاخیر پر لوگوں میں شکوک وشہبات بڑھ رہے ہیں جنہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم سے دو اکتوبر کو ہونے والی ملاقات میں دیگر بیورکریٹس کے ناموں کی فہرست بھی دی گئی تھی اُن میں چودہری قمر زمان کا نام بھی شامل تھا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کے سابق چیئرمین ایڈمرل فصیح بخاری کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا کہ اُن کی تعیناتی میں اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر چودہری نثار علی خان اور وزیر اعظم کے درمیان بامقصد مشاورت نہیں ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ حکومت کو نیب کے نئے چیئرمین کی تعیناتی کے لیے تین مرتبہ ڈیڈ لائن دے چکی تھی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اسفندیار ولی کے مقدمے میں نیب کے چیئرمین کی اہلیت کے حوالے سے ایک معیار کا تعین کیا تھا اور اس کے تحت کوئی ایسا شخص ہی اس عہدے کے لیے اہل ہو سکتا ہے جس کا قانون کا وسیع تجربہ ہو۔

دورِ سابق کے فوجی حکمرانوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے حاضر سروس جرنیلوں کو ہی نیب تعینات کرنے کو بہتر جانا۔ جمہوری حکومتوں کے دور میں سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے پر عمدرآمد کرانے کی کوشش کی اور سپریم کورٹ کی خواہش پر جمہوری حکومت کو سید دیدار حسین شاہ سمیت کئی لوگوں کو اس عہدے سے ہٹانا پڑا۔

چوہدری قمر زمان اس وقت سیکرٹری داخلہ کے عہدے پر فائز ہیں جبکہ اس سے پہلے وہ سیکرٹری تعلیم اور اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے چیئرمین کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چیف سیکرٹری کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں۔

اس سے پہلے یہ خبریں بھی آرہی تھیں کہ چوہدری قمر زمان کو ریٹائرمنٹ کے بعد فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا رکن بنایا جائے گا۔

خورشید شاہ نے سکھر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے سلسلے میں وزیر اعظم سے بامقصد بات چیت ہوئی تھی۔

نیب کے نئے چیئرمین کی تعیناتی کے لیےاپوزیشن لیڈر اور وزیر اعظم کے درمیان پانچ ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ ان میں حکومت کی طرف سے چار نام دیے گیے تھے جن میں جسٹس ریٹائرڈ رحمت حسین جعفری، خواجہ ظہیر، چودہری عبدالروف اور جسٹس اعجاز چودہری کے نام دیے گیے تھے جبکہ اپوزیشن لیڈر کی طرف سے رانا بھگوان داس، جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا، میاں اجمل اور شوکت حیات درانی کے نام شامل ہیں تاہم ان میں سے کسی ایک نام پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔

چیئرمین نیب کا عہدہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے سے ہی خالی ہے اور اس اہم عہدے کے خالی ہونے سے بہت سے اہم معالات پر پیش رفت نہیں ہوسکی تھی جس میں کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق ریفرنس بھیجنے کے علاوہ احتساب عدالتوں میں دیگر ریفرنس دائر کرنے سے متعلق بھی معاملات شامل ہیں۔

حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ایک بیان میں چیئرمین نیب کی تعیناتی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے پاکستان پیپلز پارٹی نے اس ضمن میں اُن سے مشاورت نہیں کی تھی۔