لاہور: سمارٹ فون سے جرائم کی روک تھام

Image caption پاکستان میں فون کے ذریعے وارداتوں کی خبریں پہنچانا تو معمول ہیں لیکن جرم کو روکنے کے لیے فون کے استعمال کی بات بالکل نئی ہے

پاکستانی پولیس کے لیے جدید اسلحے سے لیس مجرموں سے لڑنا آسان نہیں، لیکن اب لاہور میں پولیس کو جرائم کے خاتمے کے لیے ایک اور طرح کا ہتھیار دیا جارہا ہے۔ وہ ہے سمارٹ فون۔

اب لاہور میں پولیس سمارٹ فون کے ذریعے تمام وارداتوں کی معلومات اکٹھی کرے گی اور پھر ان معلومات کو سامنے رکھ کر جرائم روک تھام کے لیے منصوبہ بندی کی جائے گی۔

ڈاکٹر علی چیمہ کا تعلق ایک تحقیقاتی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اینڈ اکنامکس آلٹرنیٹوز سے ہے۔ گذشتہ برس ان کی گاڑی چوری ہوئی جو ابھی تک بازیاب نہیں ہوسکی۔ تاہم اس واردات نے انھیں شہر میں ہونے والے جرائم کی معلومات سے متعلق ایک نئے نظام کی تحقیق کی راہ دکھائی۔

ڈاکٹر علی چیمہ کہتے ہیں: ’جب میری گاڑی چوری ہوئی تو اس وقت اس علاقے میں ایسے بہت سے واقعات ہو رہے تھے لیکن بحثیت شہری مجھے یہ بالکل معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ اس قسم کی واردات ہونے کے امکانات کتنے زیادہ ہیں۔ اسی سے میں نے سوچا کہ ہم کسی طرح جرم ہونے کے امکانات کو جانچنا شروع کریں اور اس کے لیے کوئی نظام بنائیں کہ کب کہاں کیا ہوا اور جہاں زیادہ خطرات ہوں، وہاں کے معروضی حالات کے مطابق حکمتِ عملی بنائی جا سکے۔‘

پاکستان میں روایتی طور پر جرائم کی روک تھام کے لیے جو نظام رائج ہے اس میں جرم کرنے والے کی نفسیات اور حالات پر بہت توجہ دی جاتی ہے تاہم ڈاکٹر علی چیمہ اور ان کے ادارے نے مجرموں کے بجائے ان علاقوں پر توجہ دینے کی بات کی جہاں جرائم زیادہ تعداد میں ہو رہے ہوں۔ اور اس مقصد کے لیے سمارٹ فونز کا سہارا لیا گیا۔

علی چیمہ نے پنجاب پولیس کے کچھ افسران کے سامنے یہ آئیڈیا رکھا اور پھر باہمی مشاورت کے بعد ایک ایسی سمارٹ فون اپلیکیشن بنانے پر اتفاق ہوا جس میں جرائم سے متعلق تمام معلومات درج کی جاسکیں۔

پاکستان میں فون کے لیے اور فون کے ذریعے وارداتوں کی خبریں تو معمول ہیں لیکن جرم کو روکنے کے لیے فون کے استعمال کی بات بالکل نئی تھی۔

اس تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں موجود شعبے کی خدمات لی گئیں۔ یہ شعبہ ٹیکنالوجی کے ذریعے عام آدمی کے مسائل حل کرنے کے کئی منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

لاہور پولیس کے لیے ایسی سمارٹ فون ایپلکیشن ڈیزائن کی گئی جس میں وہ ہر وقوعے کی تاریخ، وقت، تصویر، دفعات، ایف آئی ار کا نمبر اور دوسری تمام معلومات درج کرسکتے ہیں۔

Image caption اس پہلے پنجاب میں سمارٹ فون کے زریعے ڈینگی کی روک تھام کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا

اس پراجیکٹ کی کنسلٹنٹ مریم افضل کہتی ہیں: ’پہلے ہم نے لاہور کے تھانوں کی حدود بلکہ حلقے کے حساب سے نقشہ بنوایا اور اس کے لیے ایک بنیادی ٹول تیار کیا جس پر لاہور میں جن جرائم کی ایف آئی آر درج ہو رہی ہیں، ان کا نقشہ دکھائی دیتا ہے۔ پھر ہم نے اینڈروئڈ فون کی ایک ایسی ایپلکیشن ڈیزائن کی جس میں جرائم کی معلومات درج کی جاسکتی ہیں۔ ابتدائی طور پر لاہور کے چار تھانوں میں یہ فون دیے گئے اور انھوں نے یہ رپورٹ کرنا شروع کیا کہ کب کہاں کیا ہوا۔‘

اب لاہور کے 83 تھانوں میں بندوق کے ذریعے جرائم کا خاتمہ کرنے والی پولیس کو جرائم کا خاتمہ کرنے کے لیے سمارٹ فون مل چکے ہیں۔

ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ اس نظام سے انھیں شہر میں جرائم کے مراکز کا اندازہ ہو رہا ہے اور اب وہ ایسے علاقوں میں پولیسنگ کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دے سکتے ہیں جہاں جرائم زیادہ ہوں۔

’پورے لاہور میں ہونے والے جرائم اب ہمیں ایک نقشے پر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ اندازہ ہورہا ہے کہ کن مقامات پر جرم زیادہ ہو رہا ہے اور کس نوعیت کا جرم زیادہ ہے۔ ہم نے یہ اپلیکشن استعمال کرنے کے لیے پولیس اہلکاروں کو ایک کورس کروایا ہے اور ایک باقاعدہ طریقۂ کار طے کیا ہے کہ ہر تھانے میں رپورٹ ہونے والے ہر جرم کو فون کے ذریعے محفوظ کیا جائے۔‘

سمارٹ فون کے ذریعے سمارٹ گورننس کا تصور دنیا میں تو بہت نیا نہیں تاہم پاکستان میں لاہور نے اس سلسلے میں بازی لے لی ہے۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے پولیس اہلکاروں کی سہولت کے لیے اس ایپلیکشن کا سافٹ ویئر اردو میں تیار کیا ہے۔ چیئرمین پنجاب آئی ٹی بورڈ عمر سیف کہتے ہیں کہ لاہور کے بعد پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی یہ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا: ’ہمارے جو بھی لوگ عوام کو خدمت فراہم کرنے کے لیے فیلڈ میں کام کر رہے ہیں سمارٹ فون کے ذریعے ہم ان کو بھی موثر انداز میں مانیٹر کرسکتے ہیں۔ خوش قسمتی کی بات یہ ہے اب سمارٹ فون سستے ہوگئے ہیں۔ اور ان میں کوئی بھی ایپلیکیشن بنانا اور اسے استعمال کرنا انتہائی آسان ہے۔‘

اس پہلے پنجاب میں سمارٹ فون کے زریعے ڈینگی کی روک تھام کا منصوبہ شروع کیا گیا جو انتہائی کامیاب رہا۔ اس وقت بھی پنجاب حکومت مختلف منصوبوں کے لیے 30 ہزار سمارٹ فون خرید رہی ہے۔

اسی بارے میں