مشرف کی لال مسجد مقدمے میں باقاعدہ گرفتاری

Image caption پرویز مشرف کو اُن کی عدم موجودگی میں درج ہونے والے تین مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو لال مسجد کیس میں باقاعدہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے چیف کمشنر جواد پال نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے اس مقدمے میں سابق صدر سے تفتیش بھی کی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ مقدمہ گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا گیا اور اس میں قتلِ عمد کی دفعہ 302 کے علاوہ اعانت جرم کی دفعہ 109 بھی لگائی گئی ہے۔

اس مقدمے کی تفتیش کے لیے پولیس کی ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی جس نے جمعرات کو پرویز مشرف کی رہائش گاہ پر ان سے ابتدائی تفتیش کی ہے۔

جولائی سنہ دو ہزار سات میں لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے اور اُس وقت کی حکومت اُنہیں ’شدت پسند‘ قرار دے رہی تھی۔

لال مسجد انتظامیہ کے مطابق اس آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے اور ہلاک ہونے والوں میں جامعہ حفصہ کی طالبات بھی شامل ہیں۔ اس آپریشن کے دوران گم ہونے والے متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

اُس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ ان افراد نے حکومتی عملداری کو چیلنج کیا ہے جس کی وجہ سے اُن کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی۔

خیال رہے کہ پرویز مشرف کو اس وقت گرفتار کیا گیا ہے جب جمعرات کو ہی پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اکبر بگٹی قتل کیس میں ضمانتی مچلکے جمع کروائے جانے کے بعد ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

پرویز مشرف کو اُن کی عدم موجودگی میں درج ہونے والے تین مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے جس میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمات کے علاوہ اعلی عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کا مقدمہ شامل ہے۔

جنرل مشرف ان دنوں چک شہزاد میں واقع اپنے فارم ہاؤس میں قید ہیں جنہیں اسلام آباد کی انتظامیہ نے سب جیل قرار دے رکھا ہے۔

اسی بارے میں