خلوصِ نیت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں: نواز شریف

Image caption ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری اور دنیا میں پاکستان کے مقام کو نقصان پہنچا رہے ہیں: نواز شریف

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت طالبان کے ساتھ بات چیت کے فیصلے پر خلوصِ نیت سے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

جمعرات کو پشاور میں دہشتگردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے اور چاہتی ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔

ڈرون حملے بند ہوں تو جنگ بندی ہو سکتی ہے: حکیم اللہ

نواز حکومت بھی جنگ ٹال رہی ہے

ان کا کہنا تھا کہ آل پارٹی کانفرنس کا فیصلہ یہی تھا کہ مذاکرات کا آپشن استعمال کیا جائے اور اگر اس طریقے سے اس مسئلے کو حل کیا جاتا ہے تو اس سے بہتر آپشن کوئی نہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ حکومت خلوصِ نیت سے مذاکرات کے آپشن پر عمل کرنا چاہتی ہے اور ملک میں اب مزید جانوں کا نقصان نہیں ہونا چاہیے۔

بی بی سی کےساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اور آل پارٹیز کانفرنس کےبعد حکومت نے مذاکرات میڈیا کے حوالے کر دیے ہیں۔

اسلام آباد سے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق حکومت اور حزب اختلاف میں شامل مختلف سیاسی جماعتوں نے پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ البتہ حزب اختلاف کے رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے طالبان کے سامنے کمزور پوزیشن اختیار کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ملک میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کے بعد سے ملک میں بم حملے خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں جو طالبان کی حکمت عملی ہے۔

’طالبان نفسیاتی جنگ کر رہے ہیں اور وہ مزید دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ حکومت کو مجبور کرسکیں کہ وہ ان کی شرائط پر بات کرے۔ یہ چیزیں حکومت کو سوچنی چاہیے کہ آیا وہ کمزور پچ پر کھڑے ہو کر بات کریں گے یا مضبوط قدموں کے ساتھ بات کریں گے۔‘

تحریک انصاف کی ترجمان شیریں مزاری کہتی ہیں کہ کل جماعتی کانفرنس میں حکومت کو بات چیت کا مینڈیٹ مل چکا ہے اور اب حکومت کو چاہیے کہ وہ سنجیدہ طور پر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے۔

تحریک انصاف کی ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔’ہماری حکومت نے دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ امریکہ کو اجازت دیتے جاتے ہیں ڈرون حملوں کی۔ امریکی حکام مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ڈرون حملے حکومت پاکستان کی مدد سے ہورہے ہیں۔‘

جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل فرید پراچہ نے کہا کہ حکیم اللہ محسود کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے اب تک کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ان کے بقول جس حکومت کو اتنی تائید و حمایت حاصل ہو اسے تو اب تک نتائج دینے چاہیے تھے۔

تحریک انصاف کی شیریں مزاری اور جماعت اسلامی کے فرید پراچہ دونوں نے ہی اپنے اس مشترکہ مؤقف کو بھی دہرایا کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ بم حملوں میں طالبان نہیں بلکہ امن مذاکرات کی مخالف قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

حکیم اللہ محسود نے کہا تھا کہ طالبان سنجیدہ مذاکرات کے قائل ہیں اور اگر مذاکرات کی سنجیدہ کوشش ہوئی تو وہ مذاکرات کر سکتے ہیں۔

طالبان کمانڈر کی جانب سے مذاکرات سے قبل ڈرون حملے بند کرنے کے مطالبے پر نواز شریف نے کہا کہ ڈرون حملے تو ہر صورت میں بند ہونے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور دنیا میں پاکستان کے مقام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اسی موقع پر نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہے مگر یہ ایک مشکل کام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلی دونوں حکومتوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور ملک میں دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی تربیت یافتہ فورس موجود نہیں ہے۔

اسی بارے میں