بلوچستان کابینہ میں 11 نئے وزرا کی شمولیت

Image caption ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ابتدائی تین رکنی کابینہ کی تشکیل آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے کی تھی

بلوچستان میں 11 نئے اراکین اسمبلی نے صوبائی وزرا کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے لیکن ان میں خواتین اور اقلیتوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔

وزرا اور مشیروں کے محکموں کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان کی تاریخ میں حکومت سازی پر اتفاق کے بعد موجودہ حکومت کی کابینہ کی توسیع میں سب سے زیادہ تاخیر ہوئی۔

اس حکومت سے قبل وزرا کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی اس لیے عام طور پر حکمران جماعت سب دھڑوں کو وزارتوں سے نواز دیا کرتی تھی، جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سابق حکومت میں 65 اراکین میں سے 45 کے لگ بھگ وزیر تھے۔

اس کے علاوہ 2002ء میں بننے والی حکومت میں بھی سرکاری بینچوں کے اکثر اراکین سرکاری عہدوں پر فائز تھے، لیکن اٹھارہویں ترمیم کے بعد 65 اراکین کی اسمبلی سے صرف 14 وزیر لیے جانے تھے۔

اس شرط اورمخلوط حکومت میں شامل جماعتوں میں اختلافات کے باعث کابینہ کی توسیع میں چار ماہ لگ گئے۔ ان اختلافات کے خاتمے کے بعد پیر کو11 نئے وزراء سے گورنر بلوچستان جان محمد اچکزئی نے حلف لیا۔

جن اراکین نے نئے وزرا کے طور پر حلف لیا ان میں نوابزادہ چنگیز مری، سردار زادہ سرفراز ڈومکی، میر سرفراز بگٹی، میر اظہارخان کھوسہ کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے جبکہ شیخ جعفرخان مندوخیل کاتعلق مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت (ق) لیگ سے ہے۔

نواب ایاز خان جوگیزئی، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی اور سردار مصطفیٰ خان ترین کا تعلق پختونخوا ملی عوامی پارٹی جبکہ سردار اسلم بزنجو، رحمت علی بلوچ اور میر مجیب الرحمان محمد حسنی کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہے۔

کابینہ میں خواتین اور اقلیتوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔

نئے اراکین کے حلف اٹھانے کے بعد کابینہ کے اراکین کی تعدا د 14 ہوگئی ہے جن کی بڑی تعداد کا تعلق سرداروں، نوابوں اور قبائلی عمائدین سے ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے پانچ اراکین مشیر کے طور پر بھی لیے جائیں گے جن میں سے دو، دو کا تعلق مسلم لیگ(ن) اور پشتونخوا میپ جبکہ ایک کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہوگا۔

اسی بارے میں