’تنظیمیں ایک حد تک تو کام کر سکتی ہیں لیکن ذمہ داری حکومت کی ہے‘

Image caption شدت پسندی ، دہشت گردی اور قدرتی آفات سے خیبر پختونخوا میں ایک ہزار سے زیادہ سکول تباہ ہوئے ہیں اور لاکھوں بچوں کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مشقت کرنے والے یا بھیک مانگنے والے بچوں کے اعداد وشمار حاصل کرنے کے لیے بیس سال سے کوئی سروے نہیں ہوا ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد پچیس سے تیس لاکھ کے درمیان ہے۔ ان بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کی مہم میں صوبائی حکومت کے مطابق ایک ماہ میں ڈھائی لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرا لیا گیا ہے اور یہ مہم پورا سال جاری رہے گی۔

پشاور میں جمرود روڈ پر دو بڑے سکولوں کے سامنے واقع ورکشاپ میں آٹھ سالہ محمد سعید موٹر مکینک کے پاس کام کرتے ہیں۔ ورکشاپ جاتے وقت محمد سعید کی نظریں اس بورڈ پر ضرور ٹکتی ہیں جو حکومت نے بچوں کو سکولوں میں داخل کرنے کے لیے آویزاں کیے ہیں۔ اس بورڈ پر لکھا ہے کہ ہر بچہ سکول میں داخل ہو لیکن محمد سعید کا کہنا ہے کہ ان کے والد اس کی تعلیم کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے۔

’میں نے ورکشاپ میں دو سالوں میں بہت کچھ سیکھا ہے لیکن سکول جانے کا بہت شوق ہے۔ یہ شوق وہ اس لیے پورا نہیں کر سکتے کیونکہ والد میری تعلیم کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔‘

ان ورکشاپس میں کام کرنے والے بچوں کے لیے انیس سو چورانوے سے دو ہزار چار تک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے ایک غیر رسمی سکول کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس سکول میں دو گھنٹے تعلیم فراہم کی جاتی تھی اور ورکشاپ کے مکینک عبداللہ کا کہنا ہے کہ اس سے بچوں کو بہت فائدہ پہنچا تھا۔

’اس سکول میں بچوں اور یہاں تک کہ بڑے لڑکوں کو بھی انگریزی، ریاضی اور دینی تعلیمات کا درس دیا جاتا تھا جس سے بچوں نے بہت کچھ سیکھا تھا۔‘

ایک غیر سرکاری تنظیم سپارک کے خیبر پختونخوا کے مینیجر جہانزیب خان نے بتایا کہ پاکستان میں کتنے بچے مشقت کرتے ہیں اس پر بیس سال سے کوئی سروے ہی نہیں ہوا ہے حکومت کی عدم توجہ سے مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔

’یہاں ہر سطح پر مسئلے موجود ہیں۔ بچے گلیوں میں یا بھیک مانگتے ہیں یا مشقت کرتے ہیں۔ تنظیمیں ایک حد تک تو کام کر سکتی ہیں لیکن ذمہ داری حکومت کی ہے اور حکومت اس طرف توجہ نہیں دے رہی۔‘

شدت پسندی ، دہشت گردی اور قدرتی آفات سے خیبر پختونخوا میں ایک ہزار سے زیادہ سکول تباہ ہوئے ہیں اور لاکھوں بچوں کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا میں کہیں سکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے تو کہیں ایسے سکول کی عمارتیں موجود ہیں جہاں بچے نہیں ہیں۔ ایسی اطلاع بھی ہے کہ پشاور اور اس کے مضافات میں لگ بھگ تین سو سکول بند پڑے ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان شیراز پراچہ نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی حکومت کی ہر بچے کو سکول بھیجنے کی مہم میں ایک ماہ میں ڈھائی لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

’صرف بچوں کو سکولوں میں داخل کرانا ہی ہماری ترجیحات نہیں ہیں بلکہ ہر دو ماہ بعد اس کی مانیٹرنگ کریں گے کہ آیا بچے مستقل بنیادوں پر سکول آ رہے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ اس کے لیے بچوں اور ان کے والدین کو مراعات دی جا رہی ہیں تاکہ یہ سلسلہ جاری رہے۔‘

اسی بارے میں