پشاور کا نوحہ

پشاور کے قصہ خوانی بازار میں دھماکے کے بعد کا منظر
Image caption ستمبر کی بائیس تاریخ کے بعد آٹھہ دنوں میں پشاور شدت پسندی کے تین بڑے واقعات ہوئے

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کا شہر پشاور کبھی ملک کے دیگر شہروں میں امن کے استعارے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔

پشاور جہاں پر دہشت گردی اور منظم جرائم نہ ہونے کے برابر تھے اور پورے ملک سے لوگ اس کے بازاروں میں خریداری، سینما میں فلمیں دیکھنے، نمک منڈی میں تکہ کڑاہی اور چپل کباب کھانے آتے تھے اور یہاں قائم باڑہ مارکیٹوں سے سستے داموں غیرملکی سامان سے لدے پھندے گھروں کو واپس لوٹتے تھے۔

آج اسی شہر پشاور میں حالت یہ ہے کہ اس کی مارکیٹوں کی رونقیں ماند پڑچکی ہیں، شام ڈھلنے کے بعد اس کے شہری گھروں کو زندہ لوٹنے پر شکر ادا کرتے ہیں اور پھر باہر نہیں نکلتے کیونکہ یہ شہر تو اب دن کی روشنی میں بھی دہشت گردوں کا آسان ترین ہدف بن چکا ہے۔

گذشتہ ماہ یعنی ستمبر کی بائیس تاریخ کے بعد آٹھہ دنوں میں اسے تین بار بری طرح نشانہ بنایا گیا تو ان سوالات نے جنم لیا کہ آیا یہ شہر اتنا آسان ہدف کیوں ہے اور اس میں اگر چرچ کو نشانہ بنایا گیا تو کیا سکیورٹی بڑھا کر چارسدہ روڈ پر جانے والی سرکاری ملازمین کی بس کو نہیں بچایا جاسکتا تھا۔ ظلم کی انتہا تو اس وقت ہوئی جب ابھی حکومت ان حملوں سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے قابل نہیں ہوئی تھی کہ دہشت گردوں نے انہیں آنکھیں دکھاتے ہوئے قصہ خوانی میں بھی خون کی ندیاں بہا دیں۔

معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ قصہ خوانی، خیبربازار، کوچی بازار، مینا بازار، رامداس بازار، شاہین بازار و جھنڈا بازار کی حفاظت کے لیے تو پولیس کی نفری ہی نہیں اور دہشت گردی سے بچنے کے لیے شہری حصار کی اہم چیک پوسٹ خیبر بازار میں پولیس کے صرف دو سپاہی کھڑے ہیں اور صوبائی اسمبلی کے دروازے پر خواص کے گھروں کو جانے والے راستے میں قائم چیک پوسٹ پر پہنچتے ہی احساس ہوتا ہے کہ کوئی اہم آبادی شروع ہی ہوا چاہتی ہے۔ سب کوپتہ ہے کہ یہاں سے چھاؤنی شروع ہوتی ہے جس میں صرف فوجی افسر ہی نہیں بلکہ لوگوں کے منتخب کردہ وزیروں اور مشیروں کے گھر بھی آباد ہیں اور چیک پوسٹوں اور گورنر ہاؤس سے منسلک دیواروں کے حصار میں خاص لوگ رہتے ہیں۔

جب قصہ خوانی اور خیبر بازار میں یہ حالت تھی کہ بارودی مواد چیک کرنے کے آلات تھامنے کے لیے سپاہی دستیاب نہیں تھے تو وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤس جانے والی سڑکوں پر سپاہی جتھوں کی صورت ایک ایک مقام پر بیس بیس کی تعداد میں موجود تھے۔ ان حفاظتی حصاروں میں افسر شاہی کے بنگلے اور دفتر ہیں جن میں سے ایک ایک بنگلے میں پتہ نہیں کتنے کتنے سپاہی دن رات جاگ کر پہرہ دیتے ہیں حالانکہ اس حصار میں ویسے بھی دہشت گردوں کا آنا ممکن نہیں۔

ایسا کیوں ہے کہ خواص خاص پہرے میں جیتے ہیں اور شہریوں کو نشانے پر ہونے کے باوجود تحفظ دستیاب نہیں۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے صوبے کے پولیس سربراہ ناصر خان درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا بلاوجہ نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کے نشانے پر خواص تھے اور اب جب دہشت گردوں نے عوام کو نشانہ بنایا ہے تو انہوں نے صوبائی حکومت سے استدعا کی ہے کہ انہیں بھی اب نفری کو فارغ کرکے عوامی مقامات پرلگا دینی چاہیے۔ یعنی یہ سب بلاوجہ نہیں بلکہ خاص حکمت عملی کا حصہ ہے۔

جغرافیہ

Image caption پشاور چرچ میں دھماکے کے بعد ملک بھی میں مظاہرے ہوئے تھے

پشاور کے قریباً چاروں اطراف قبائلی علاقوں کی زد میں ہیں۔ اس کی ایک طرف ورسک ڈیم کی طرف مچنی سے ہوتے ہوئے محمند ایجنسی واقع ہے، شہر کے مغرب میں خیبر ایجنسی جو آگے جاکر طورخم کی سرحد کے راستے افغانستان میں جاکر ختم ہوتی ہے، جنوب مغرب میں اکا خیل و درہ آدم خیل اور جنوب میں ایف آر کوہاٹ کے نیم قبائلی علاقے واقع ہیں۔

جی ٹی روڈ کے نام سے جانی جانے والی گرینڈ ٹرنک روڈ ہی وہ شاہراہ ہے جو اسے براہ راست پاکستان کے دیگر شہروں سے ملانے کا راستہ دیتی ہے، اسی سمت میں ملک کے چاروں صوبوں میں لے جانے والی ریل کی پٹڑی بھی گزرتی ہے۔

کسے معلوم نہیں کہ آج قبائلی علاقوں میں موجود مسلح عناصر کا ہاتھ روکنے کے لیے کوئی قانون نہیں چلتا او پتہ نہیں ان میں سے کون کہاں سے آکر کس کے مقاصد پورے کرنے کے لیے کام کرتا ہے بلکہ شہر پشاور کے ارد گرد دیہی علاقوں میں مسلک اور فقہے کے نام پر پتہ نہیں کتنے گروہ ایسے ہیں جو جنگ زدہ اور سرزمین بے قانون قبائلی علاقوں سے آنے والے ان حملہ آوروں کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں۔ یہ سب شاید اتنا آسان نہ ہوتا اگر قبائلی علاقوں اور شہروں کے بیچ گشت اور تحفظ کے لیے بنائی گئی ایف سی کی نفری اسلام آباد، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں خاص علاقوں کی چوکیداری کی بجائے اپنے مطلوبہ مقام پر موجود ہوتی۔

صوبائی حکومتیں اور اب تو پشاور ہائی کورٹ بھی کئی بار ایف سی کی واپسی کے مطالبے کر چکی ہے لیکن پتہ نہیں وہ کون ہے جو عوام کو تحفظ کا دلاسہ تو دیتا ہے لیکن ایف سی کی صورت میں اس کا مرہم اسے نہیں دیتا۔

پولیس اور ایف سی کو خواص کی چوکیداری پرلگا کر تو لگتا ہے کہ شاید ریاست نے خود ہی ہدف کو کچھ مزید آسان بنا دیا ہے۔ پتہ نہیں اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟

قبائلی علاقوں میں سلامتی کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والے ایک سابق سیکرٹری بریگیڈیئر محمود شاہ کہتے ہیں کہ جو ایف سی علاقے سے باہر ڈیوٹی دے رہی ہے وہ تو ہے لیکن جو باقی ماندہ علاقے میں موجود ہے وہ بھی کچھ نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کا موجود نہ ہونا پشاور میں سیکورٹی برقرار نہ رکھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

اس سوال پر کہ پشاور کے شہریوں کے جذبات اور احساسات کی کیا حالت ہے ایک کاروباری شخص ابرار احمد کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس شہر کو اکیلا چھوڑ دیا گیا ہو۔ لوگ تو اب جب اظہار افسوس اور یکجہتی بھی کرتے ہیں تو کچھ دیکھ کرہی کرتے ہیں۔ سوات میں جن لوگوں نے ملالہ یوسفزئی اور پشاور میں چرچ کو نشانہ بنایا تھا انہوں نے ہی شادی کی خریداری کے لیے قصہ خوانی آنے والی لڑکیوں اور سرکاری ملازمین سے بھری بس کو بھی نشانہ بنایا ہوگا۔ لیکن کیا سب کے لیے آواز بلند کرنے اور ہمدردی کی شدت میں کوئی مماثلت ہے۔ اگر ایسا ہے اور ہر کیس کو دوسرے سے الگ کرکے دیکھا جارہا ہے تو پھر معاشرہ تقسیم تو ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس شہر کے لیے جو پاکستان کی تاریخ کا امین ہے، کسی نے آواز نہیں اٹھائی جو بعض بڑے شہروں سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ یہاں پر تو گینگ وار اور قبضے کی جنگ بھی نہیں ہو رہی لیکن لوگ پھر بھی بڑی تعداد میں مر رہے ہیں۔

کچھ سیاسی اور غیر سیاسی دانشور جب ٹویٹ کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ متاثرین کی ہمدردی میں نہیں اپنی ناپسندیدہ خیبرپختونخوا حکومت کی تضحیک اڑانے کے لیے بول رہے ہیں۔ سابق حکومتوں کے کچھ دانشور جب پشاور کا ’نوحہ‘ پڑھتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ حالات ان کی حکومتوں میں بھی کچھ زیادہ اچھے نہیں تھے اور نفری کی تعیناتی کی یہ پالیسی اب کی نہیں پہلے کی حکومت کے وقت کی ہے۔

اسی بارے میں