گھوٹکی: دو پولیس اہلکار جنسی زیادتی کے الزام میں ریمانڈ پر

Image caption میڈیا میں خبر آنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے

صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ایک عدالت نے دو بہنوں سے جنسی زیادتی کے الزام میں ایس ایچ او سمیت دو اہلکاروں کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا ہے۔

ایس ایچ او کنبھڑا عبداللہ اعوان اور اہلکار عبدالرزاق کو سیشن جج گھوٹکی خالد حسین شاہانی کی عدالت میں پیش کیا گیا اور پولیس کی درخواست پر عدالت نے دونوں کو پانچ روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

اے ایس آئی ہزارو خان نے عدالت کو بتایا کہ دونوں اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا ہے، لہٰذا دونوں خواتین کی طرف سے دائر کی گئی درخواست خارج کی جائے، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

عدالت نے پولیس کا موقف تسلیم کرتے ہوئے درخواست کو خارج کردیا۔

لیڈی ڈاکٹر رضیہ سولنگی نے عدالت کو بتایا کہ مبینہ جنسی زیادتی کی شکار بہنوں کے نمونے لے کر لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے غلام محمد مہر کالج ہسپتال سکھر بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد وہ میڈیکل رپورٹ پیش کرسکیں گی۔

دونوں بہنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اغوا کی واردات میں ملوث ہونے کے شبے میں انہیں حراست میں لے کر تین روز تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

دونوں بہنوں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ ’پولیس نے تھانے بلاکر کہا کہ تم لوگوں نے ایک شخص کو اغوا کیا ہے جبکہ ان کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں تھا‘۔

دونوں بہنوں کے مطابق انہیں تین روز تک مختلف مقامات پر رکھا گیا تاکہ کسی کو معلوم نہ ہوسکے اور اسی دوران ان سے جنسی زیادتی بھی کی گئی۔

دونوں لڑکیاں اوباڑو تحصیل کے علاقے میر کوش میں رہتی ہیں اور ان کا تعلق انتہائی غریب خاندان سے ہے۔ ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ پولیس نے جس رات گرفتاریاں کیں اس رات گھر پر کوئی نہیں تھا اور وہ خود کراچی میں تھے۔

’دوسرے روز جیسے ہی مجھے پتہ چلا تو میں پہنچ گیا۔ پولیس روز بہانے کرتی رہی کہ آج چھوڑ دیں گے کل چھوڑیں دیں گے، تنگ آکر میں نے عدالت میں درخواست دائر کردی۔‘

واضح رہے کہ میڈیا میں یہ خبریں آنے کے بعد سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بھی نوٹس لیا اور انہوں نے ایس ایچ او کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ ایس ایس پی گھوٹکی عبدالسلام شیخ کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں کی شکایت پر ایس ایچ او اور پولیس اہلکار پر جنسی زیادتی کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ایک ڈی ایس پی کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو تحقیقات کر رہی ہے۔

ایس ایس پی کے مطابق ایس ایچ او کا موقف ہے کہ سرگودھا کا کوئی شخص اغوا ہوا تھا جس کے تاوان کا مطالبہ کرنے کے لیے یہاں سے فون کیا گیا۔ اس معاملے کی تحقیقات میں لڑکیوں کو بھی طلب کیا گیا جس کے بعد اغوا شدہ شخص تو مل گیا لیکن لڑکیوں نے عدالت سے رجوع کرلیا۔

اسی بارے میں