پاکستان میں بچے غذائی قلت کا شکار

Image caption پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے

عروسہ کا خاندان پاکستان کے اکثریتی متوسط گھرانوں کی طرح ہے یعنی جہاں کمانے والا ایک ہے اور کھانے والے سات۔ عروسہ کے شوہر ایک سنار کی دکان پر کام کرتے ہیں۔ چار بچوں کے سکول کا خرچہ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسے میں بچوں کے لیے متوازن غذا ترجیحات کی فہرست میں بہت نیچے آجاتی ہے۔

عروسہ کہتی ہیں ’ہمارے گھر کا بجٹ تو اتنا ہے ہی نہیں کہ ہم پورا کرسکیں۔ بل بہت زیادہ ہیں اور مہنگائی جینے نہیں دیتی۔ جتنا ہم سے ہو پاتا ہے وہ بچوں کو کھلا پلا دیتے ہیں۔ جس طرح کی خوراک بچوں کو ملنی چاہیے وہ تو انھیں بالکل نہیں ملتی۔‘

عروسہ کی طرح پاکستان میں تقریباً اٹھاون فیصد گھرانے غدائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ جہاں کھانے پینے کو جو مل رہا ہے وہ ناکافی ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے ہیں جو شدید غدائی قلت کا شکار ہیں اور جنہیں دو وقت پیٹ بھر کر کھانا بھی دستیاب نہیں۔

خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ستاسی کروڑ افراد مستقل اور شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ لیکن پاکستان جیسا ملک جو گندم اوردودھ جیسی بنیادی غذائیں پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے وہاں اتنی آبادی غدائی عدم تحفظ کا شکار کیوں ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں گندم، چاول اور مکئی سمیت بہت سی سبزیاں اور پھل وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن تقریباً چالیس فیصد سبزیاں اور پھل تو ذخیرہ کرنے کا مناسب بندوبست یعنی ’کُول چین‘ نہ ہونے کے باعث گل سڑ کر ضائع ہورہے ہیں۔

اتنی بڑی مقدار میں سبزیاں اور پھل ضائع ہونے سے بازار میں طلب اور رسد کا فرق بڑھ جاتا ہے۔ نتیجہ قمیمتوں کے عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ حکومت نہ تو بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی استطاعت رکھتی ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ایسا ٹھوس نظام موجود ہے جو ایسی صورتحال میں عوام کو غذائی تحفظ فراہم کر سکے۔

زرعی ماہر ابراہیم مغل کہتے ہیں ’سات برس پہلے لوگ اپنی آمدنی کا اوسطاً سینتیس فیصد خوراک پر خرچ کررہے تھے۔ لیکن اب یہ شرح تہتر فیصد ہوچکی ہے جبکہ خوراک پھر بھی مناسب مقدار اور معیار کی نہیں۔ پاکستان میں خوراک پیدا کرنے والا بھی بھوکا مر رہا ہے اور صارف بھی۔ درمیان والا مافیا اپنے مالی فائدے کے لیے خوراک کو ہتھیار کی طرح استعمال کررہا ہے۔ اور نتیجہ ہے افرتفری جو آج ہر طرف موجود ہے۔‘

حال ہی میں جاری کیے گئے قومی غذائی سروے کے مطابق پاکستان میں محض تین فیصد بچے ہی ایسے ہیں جو تنوع کے اعتبار سے کم از کم معیار کے مطابق عذا لے پا رہے ہیں۔ پاکستان میں بتیس فیصد بچوں کا وزن پیدائش کے وقت اتنہائی کم ہوتا ہے۔ اور ان کی اکثریت پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کی بنیاد ی وجہ ہے ماؤں میں غذا کی کمی ہے۔

Image caption بچوں کی صحت ماں کو بہتر غذا نہ ملنے سے بھی متاثر ہوتی ہے

غذائی ماہر پروفیسر ڈاکٹر سلیم حیدر کہتے ہیں ’متوازن غذا تک بہت سی ماؤں کی رسائی نہیں ہوتی۔ اگر کہیں بہتر خوراک دستیاب ہے بھی تو ماؤں کو شعور نہیں کہ انھیں دوران حمل کیسی عذا لینی ہے۔ اور کبھی ماں اپنی دانست کے مطابق متوازن غذا لے بھی لے تو وہ معیاری ہی نہیں ہوتی کہ ماں بچے کی صحت کو فائدہ دے سکے۔‘

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حمل کے دوران اکیاون فیصد عورتیں خون کی کمی کا شکار رہتی ہیں۔

لیکن عوام کو غذائی عدم تحفظ کا شکار کرنے کا سب سے بڑا سبب تو مہنگائی ہے۔ گندم کو ہی لیجیے جو بنیادی غذائی اجناس میں سب سے اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق چند ماہ پہلے حکومت نے تیس روپے کلو کے حساب سے کاشتکار سے گندم خریدی لیکن اس وقت بازار میں اسی گندم کا آٹا سینتالیس سے پچاس روپے کلو تک میں فروخت ہورہا ہے۔

پاکستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی ڈائریکٹر مسز لولا کاسترو کہتی ہیں ’ہمیں پالیسی کی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ چھوٹے کسانوں، مزدوروں، خواتین اور بچوں کو ایک بہتر اور متوازن غذا کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جارہے ہوں۔‘

پاکستان میں غذا کی قلت کی ایک وجہ آبادی میں تیزی سے اضافہ بھی ہے۔ جس تیزی سے آبادی میں اضافہ ہوا ہے پیداواری صلاحیت اس حساب سے نہیں بڑھی۔ اگر یہی صورتحال رہی تو مستقبل میں غذائی عدم تحفظ کا شکار گھرانوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوسکتا ہے کمی نہیں۔

اسی بارے میں