بلوچستان: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جلوس

Image caption بلوچستان میں گم شدہ افراد کے رشتے داروں کی عید سوگوار گزری

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے عید کے روز بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنسز کے زیر اہتمام کوئٹہ میں جلوس نکالا گیا اوراحتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

احتجاجی جلوس کا آغاز کوئٹہ پریس کلب کے قریب لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنسزکے بھوک ہڑتالی کیمپ سے ہوا جس میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔

دس دن میں لاپتہ افراد بازیاب کروائیں: سپریم کورٹ

لاپتہ افراد کے مسئلے میں شدت آئی ہے: وزیرِ اعلیٰ

جلوس کے شرکا نے شہرکی بعض شاہراہوں کے گشت کے بعد پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مطاہرے کے شرکا ’تمام لاپتہ بلوچ اسیروں کو بازیاب کرو اور دوران حراست لاپتہ بلوچوں کا قتل بند کرو‘ کے نعرے لگارہے تھے۔

بلوچستان میں 2002 میں حالات کی خرابی کے بعد لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے مطابق اب بھی جاری ہے۔

گذشتہ ماہ کوئٹہ سے لاپتہ کیے جانے والے ایک نوجوان محمد قذافی کا چھوٹا بھائی عبدالزاق اس کی تصویر لیے اس جلوس میں شریک تھا۔

چوتھی کلاس کے اس طالب علم کا کہنا تھا کہ ’وہ آج عید منانے کی بجائے اس جلوس میں اس لیے شریک ہیں کہ ان کا بھائی بازیاب ہو جنہیں گذشتہ ماہ لاپتہ کیا گیا تھا۔‘

جون 2009 سے لاپتہ کیے جانے والے طالب علم ذاکر مجید کی بہن فرزانہ مجید کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں رہا جس کے باعث وہ عید کے روز بھی احتجاج پر مجبور ہیں۔

وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان سے اب تک ہزاروں افراد کو لاپتہ کیا گیا ہے۔

نئی حکومت کے قیام کے بعد وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کوئٹہ میں بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ریلی میں شریک وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے چیئر مین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ’سابق حکومت نے شروع میں تو کچھ لوگوں کو چھوڑ دیا تھا لیکن موجودہ حکوت کے دور میں تو تاحال کسی کو بازیاب کرنے کی بجائے لوگوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے۔‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ زلزلے سے متائثرہ علاقوں سے بھی لوگوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے۔

ریلی کے شرکا نے بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرنے کے علاوہ حقوقِ انسانی کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اسی بارے میں