’بلوچ عزت دار اور غیرت مند مگر مجبور‘

امدادا کے منتظرین
Image caption ’ایک طرف ایف سی والے آگے نہیں جانے دیتے اور سامان نہیں بانٹنے دیتے اور دوسری طرف سے شکایت یہ ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند اس میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں‘

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں چوبیس ستمبر کو خوفناک زلزلہ آیا جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے جبکہ لاکھوں بے گھر ہوگئے اور ان گنت مدد کے انتظار میں ادھر ادھر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

حکومت نے امدادی کاموں کا آغاز کیا مگر غیر ملکی امدادی کارکنوں کو ضلع کے اصل مقام آواران جانے کی اجازت نہیں دی۔ امدادی اشیا کی ترسیل بھی ایف سی کے معائنے اور اجازت سے مشروط کردی۔

آواران سے سیربین کا خصوصی پروگرام

اس صورتِ حال سے اب تک بے شمار افراد کو نہ صرف امداد نہیں مل سکی بلکہ کئی تو علاج جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم ہیں۔

بی بی سی اردو کی ایک ٹیم عید کے دن آواران میں موجود ہے جہاں ہمارے نامہ نگاروں نے مقامی حکام، حقوقِ انسانی کمیش کی سربراہ، امدادی کارکنوں اور متاثرہ افراد سے بات چیت کرنے کے بعد اپنے مراسلوں میں بتایا ہے کہ آواران اور ارد گرد کے اضلاع میں صورتِ حال اب تک بے حد خراب ہے۔

صرف آواران میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے جبکہ وہاں ایکسرے کا کوئی یونٹ تک نہیں۔ یہی حال دیگر مقامات کا ہے۔وہاں موجود لوگ کہتے ہیں کہ جہاں وہ ہیں وہاں سے صرف تین سو کلو میٹر دور صورتِ حال کہیں بہتری ہے لیکن وہ ہم سے تین سو کلومیٹر دور ہیں لیکن ان کا اور ہمارا فاصلہ صدیوں کا ہے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے خصوصی بات چیت میں حقوقِ انسانی کمیشن کی سربراہ زہرہ یوسف نے کہا کہ امدای سرگرمیوں میں بہت سی مشکلات ہیں- فاصلہ ایک بڑی مشکل ہے مگر ’میرے خیال سے امداد صحیح طریقے سے ان کو نہیں پہنچ سکی ہے۔ دوسری طرف بلوچ علیحدگی پسند کی جانب سے بھی نیشنل ڈیساسٹر مینیجمنٹ اور فوج پر حملہ کیا گیا ہے جو امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ لوگوں کو بھی ڈرایا گیا تاکہ وہ امداد نہ لیں-‘

زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ دو گروپوں کے درمیاں پسے ہوئے ہیں ۔ ’ایک طرف سے فوج چاہتی ہے کہ ان کو امداد دیں اور دوسری طرف جو علیحدگی پسند ہیں وہ چاہتے ہیں کہ وہ امداد نہ لیں۔ لہذا جو ضرورت مند ہیں وہ پسے ہوئے ہیں۔‘

زہرہ یوسف کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ مذہبی تنظیمیں اواران پہنچ رہی ہیں اور انہیں حکومت کی جانب سے علاقے تک رسائی کی اجازت بھی مل رہی ہے۔ حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں خصوصاً بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے سے روک کر صحیح نہیں کیا ۔

Image caption آواران میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے جبکہ وہاں ایکسرے کا کوئی یونٹ تک نہیں۔ یہی حال آس پاس کے اضلاع کا ہے: ایک متاثر

حقوقِ انسانی کمیشن کی سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت ان تنظیموں سے خوف زدہ ہے کہ یہ زمینی حقائق کے بارے میں باہر رپورٹ کر سکتے ہیں اور دوسری طرف حکومت ان تنظیموں کی سیکیورٹی کے بارے میں بھی فکر مند ہے کیونکہ ماضی میں بلوچستان میں مغربی تنظیموں کے کارکنان کو اغوا کیا جاچکا ہے-‘ لیکن حکومت کو چاہیے تھا کہ بین الاقوامی تنظیموں کی مدد کی پیشکش کو قبول کرتی تاکہ متاثرین کی مدد کی جا سکتی- ‘

بی بی سی کے سینئر نامہ نگار محمد حنیف سے بات کرتے ہوئے جماعۃ الدعویٰ کے ادارے فلاح انسانیت کے سربراہ حافظ عبدالرؤف نے کہا کہ وہاں بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔ نہ گیس ہے نہ بجلی ہے نہ سڑکیں ہیں، بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور بلوچستان کی صوبائی کو چاہیے کہ ان لوگوں کا جو حق بنتا ہے وہ ان کو دیں۔

اس سوال پر کہ کیا بلوچستان کا یہ علاقہ ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کی طرح ہے یا ان سے مختلف ہے فیصل ایدھی نے جواب دیا کہ یہ پاکستان کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے میں گاڑی پر چھ گھنٹے تک لگ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشکئی سے کراچی تک صحت کی کوئی سہولت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اواران ضلعی صدر دفتر ہے لیکن وہاں کہ ہسپتال میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے آواران ضلع میں ایک بھی ایکسرے یونٹ نہیں ہے اور قریبی ضلع بیلا کی بھی یہی حالت ہے۔

حافظ عبدالرؤف نے زلزلے سے متاثرہ ہونے والے علاقوں کے بارے میں اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ فاصلہ گو صرف تین سو کلومیٹر کا ہے ’لیکن فرق ہمارا اور ان کا صدیوں کا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہاں آج بھی لوگ کھجور کے پتوں کا جوتا پہنتے ہیں، ان کے پاس تبدیل کرنے کے لیے کپڑا نہیں بلکہ پیوند لگانے کی بھی جگہ نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ وہاں اتنی غربت ہے کہ شاید ہی کسی گھر میں دو وقت کھانا بنتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہاں حکومت موجود ہی نہیں تھی، بہت سے لوگ تھے جنہوں نے کبھی دوائی کی گولی نہیں دیکھی، انجیکشن نہیں دیکھا کبھی ڈاکٹر نہیں دیکھا۔

ایک اور سوال کے جواب میں کہ وہاں سے اطلاعات ملتی رہی ہیں کہ ایف سی والے آگے نہیں جانے دیتے اور سامان نہیں بانٹنے دیتے اور دوسری طرف سے شکایت یہ ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند اس میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔

Image caption کچھ متاثر علاقے اتنے دور ہیں کہ ایک سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے میں گاڑی پر چھ گھنٹے تک لگ جاتے ہیں

الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری انجنیئر عبدالعزیز نے کہا کہ انہوں نے ایف سی کہا ہے کہ وہ ان کی زیر نگرانی اس علاقے میں نہیں جانا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ متاثرہ علاقے کی طرف بڑھے تو راستے میں ان سے پوچھا گیا کہ ’کیوں آئے ہو اور کراچی سے آنے کی کیا ضرورت پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی شکوک و شبہات کے بعد انہیں مقامی لوگوں نے قبول کیا۔‘

انجنیئر عبدالعزیز نے کہا کہ وہ حیران تھے کہ اتنی محرومی، تباہی کے باوجود وہاں کوئی چھینا جھپٹی نہیں ہوئی۔

امدادی کارکنوں پر حملوں کے بارے میں سوال کے جواب میں فیصل ایدھی نے کہا کہ ایک بھی کارکن نہ وہاں زخمی ہوا ہے اور نہ مارا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں وہاں آئی تھیں لیکن جلد ہی وہاں سے چلی گئیں۔ انہوں نے کہ وہ لڑائی سے متاثرہ علاقہ ہے اور انہوں نے وہاں فائرنگ کی آوازیں سنی تھیں لیکن یہ نہیں معلوم کہ کون گولیاں چلا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹروں کی موجودگی تھی جو امدادی کارروائیوں میں حصہ تو نہیں لے رہے تھے، سامان کی ترسیل میں حصہ لیا ہو تو معلوم نہیں۔