آواران کی گلیوں میں

Image caption غیر ملکی اداروں کو زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں کام کی اجازت نہ ملی لیکن مذہبی تنظیموں کو اجازت مل گئی

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل بلوچستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کی رپورٹنگ کے لیے وہاں پہنچے تھے۔ نامہ نگار ایک بار پھر آواران کا سفر کیا ہے۔ رپورٹنگ کی پہلی قسط آوران کی گلیوں سے پیش کی۔ رپورٹنگ کا بقیہ حصہ پیش ہے۔

پندرہ روز کے بعد دوبارہ ترتیج گاؤں پہنچے، گاؤں کے باہر کچھ بچے کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھے۔ میں نے ان سے بات کرنا چاہی لیکن انہیں اردو اور مجھے بلوچی نہیں آتی تھی جس وجہ سے بات نہیں ہوسکی۔

ٹوٹے ہوئے کچھ گھروں کے درمیان سفید اور سبز رنگ کے خیمے نظر آئے۔ بلوچستان میں فیملی کا سائز بڑا ہے لیکن یہ خیمےجیسے ماڈرن فیملی، میاں بیوی اور دو بچوں کے لیے بنائے گئے ہوں۔

مقامی نوجوان ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ ان میں سے بھی کئی خیمے تو انہوں نے یہاں سےگزرنے والے ٹرکوں کو زبردستی روک کر حاصل کیے ہیں۔ تاحال انہیں سات سو کے قریب خیمے مل چکے ہیں جبکہ ان کےگاؤں کی آْبادی دو ہزار سے زیادہ ہے۔

گاؤں میں پتہ چلا کہ دو نوجوانوں کو ایف سی نے مبینہ طور پر عید سے ایک روز قبل آواران شہر سے اٹھایا ہے۔ سعید بلوچ نامی ایک نوجوان کی بہن نادیہ نے بتایا کہ اس کا بھائی اور گاؤں کا ایک نوجوان طالب درزی سے کپڑے لینےگئے تھے کہ انہیں اٹھایا لیاگیا ہے۔ دونوں نوجوان کاشتکاری کرتے ہیں۔ وائس فار مسنگ پرسنز کے رہنما عبدالقدیر ریکی بھی یہ شکایت کر رہے ہیں کہ متاثرہ علاقوں میں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے۔

ترتیج میں زلزلے کے باعث پچیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعض زخمیوں کو کراچی بھی منتقل کیا گیا تھا۔ تاج بی بی بیٹی کے ساتھ ایک روز قبل ہی کراچی سے واپس آئی تھی۔ ان کی بیٹی کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی ہے اب وہ اٹھ نہیں سکتیں۔ کراچی سے وہ صرف رنگ برنگی گولیاں لےکر آئی ہیں۔

سندھ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ زلزلہ متاثرین کا مفت علاج کیا جائےگا۔ تاج بی بی کا کہنا تھا کہ انہیں تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں تھا آخر میں تو بیڈ سےگدا بھی نکال دیا تاکہ تنگ ہوکر چلے جائیں۔

آواران شہر میں کئی مذہبی ادارے گوشت تقسیم کر رہے تھے لیکن ترتیج میں وہ بھی نہیں آئے۔ مریم بلوچ نامی لڑکی کا کہنا تھا کہ ان کہ ہاں تو کوئی گوشت دینے نہیں آیا۔

آفات سے متاثرہ علاقوں میں متاثرین کے پاس حکومت کے لیے ہمیشہ شکایت ہوتی ہیں لیکن غیر سرکاری ادارے مدد کرکے شکایت کم کرتے ہیں لیکن آواران میں تو دونوں ہی لاپتہ تھے۔

ترتیج سے آواران شہر واپس پہنچے تو مقامی لوگوں نے بتایا کہ راکٹ فائر کیاگیا ہے، دھماکے کی آواز آئی ہے۔ راکٹ کہاں گرا ہے کسی کو معلوم نہیں۔ مقامی پولیس کے پاس بھی اس کی تفصیلات نہ تھیں۔

شام سات بجے ایسا محسوس ہوا جیسے نعرے لگ رہے ہوں اس کے بعد فائرنگ کی بھی آوازیں آئیں۔

کچھ دیر کے بعد باہر نکل کر لوگوں سے پوچھا کہ یہ احتجاج کی آواز کہاں سے آرہی تھی تو انہوں نے بتایا کہ ایف سی والے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ معمول کا گشت تھا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ایف سی اہلکار اکثر رات کو سونے سے پہلے گشت کرتے ہیں اور پاکستان زندہ آباد کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار ایک دو فائر بھی کر دیتے ہیں۔

آواران میں ہم نے رات کو کمرے کے باہر سونے کو ترجیح دی کیونکہ زلزلے کے آفٹر شاکس اب بھی آ رہے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ گرمی لگے گی، باہر مچھروں سے مقابلہ کرنا پڑا اور چار بجے کے بعد ٹھنڈ لگنے لگی۔اوپر چادر لی لیکن بات نہ بنی۔ اور ان لوگوں کا خیال آیا جو بغیر چھت کے باہر سو رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں سردی بھی بڑھ جائیگی۔

اسی بارے میں